لبنانی وزیر دفاع میشل منسی نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے 16 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر تقریباً 3500 فضائی حملے اور سیکڑوں کنٹرولڈ دھماکے کیے ہیں۔
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی 17 اپریل کی نصف شب کے بعد نافذ العمل ہوئی، جبکہ اسرائیلی افواج تا حال جنوبی لبنان میں گہرائی تک موجود ہیں۔ اگرچہ اس جنگ بندی نے بیروت اور اس کے مضافات پر فضائی حملوں کو بڑی حد تک روک دیا ہے، لیکن اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ تنظیم کے درمیان لڑائی کو نہیں روکا۔
منسی نے کابینہ کے اجلاس کے دوران مزید کہا کہ 17 اپریل سے 7 جون کے درمیان اسرائیل نے 3491 فضائی حملے، 407 مسماری کی کارروائیاں اور چھ ایسی بلڈوزنگ کارروائیاں کی ہیں جنہوں نے جنوبی لبنان کے دور دراز علاقوں میں پورے کے پورے قصبے زمین بوس کر دیے ہیں۔
یہ اعداد و شمار لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کے دفتر نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں جاری کیے۔ سلام نے کہا کہ لبنان جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے نقل مکانی کی نئی لہروں کو جنم دیا ہے، جس سے بے گھر خاندانوں کو سنبھالنے کی لبنان کی صلاحیت پر زبردست دباؤ پڑا ہے۔
دو مارچ کو تازہ ترین جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں اور انخلا کے انتباہات کے باعث پہلے ہی لبنان کی پانچویں حصہ آبادی یعنی دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین محاذ آرائی کا آغاز اس وقت ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے چند روز بعد ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل پر میزائل فائر کیے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر گولہ باری جاری رکھی ہے اور لبنانی اور اسرائیلی حکام کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی اس بات چیت کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے۔
اسرائیل نے اتوار کے روز بیروت کے جنوبی مضافات پر اس وقت حملے کیے جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں اہداف پر فائرنگ کی۔ تہران نے جواب میں شمالی اسرائیل پر بم باری کی، جس کے جواب میں اسرائیل نے ایران میں مختلف مقامات پر حملے کیے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطلب ضروری نہیں کہ لڑائی مکمل طور پر رک جائے، بلکہ یہ اس کی شدت میں کمی تک محدود ہو سکتی ہے۔
-
ایران اور اسرائیل کے مابین محاذ آرائی کا دوبارہ آغاز، سفارتی امیدوں کو زک پہنچانے کا خدشہ
اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف جوابی کارروائی سے ...
بين الاقوامى -
ایران اور اسرائیل کے مابین محاذ آرائی کا دوبارہ آغاز، سفارتی امیدوں کو زک پہنچانے کا خدشہ
اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف جوابی کارروائی سے ...
مشرق وسطی -
ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کر دیا
اسرائیلی ذریعے کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان پیر کے روز بات چیت ہوئی
مشرق وسطی