اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق تفتیش کاروں کی ایک ٹیم اگلے ہفتے لبنان میں تعینات کرے گا تاکہ ملک میں موجودہ جنگ کے دوران تمام فریقوں کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جائے۔
"ہم پہلی بار یہ تشخیصی مشن بھیج رہے ہیں اور اس کا مقصد درحقیقت تمام فریقوں کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا، ان کی دستاویز بندی کرنا اور آخرِ کار آپ کو اس کی اطلاع دینا ہے،" ترک نے کہا۔
یاد رہے کہ تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا نے امریکہ-ایران جنگ میں ایران سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے جس سے اسرائیل کو ایک بڑی فضائی اور زمینی مہم شروع کرنے کا موقع مل گیا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق لبنان کا انسانی بحران تیزی سے غذائی تحفظ ختم کر رہا ہے اور امکان ہے کہ لبنان میں تقریباً 1.24 ملین افراد کو اگست تک شدید بحران اور ہنگامی سطح پر غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا ہو گا۔
-
جنوبی لبنان پر فضائی حملے... اسرائیل کا "حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھنے" کا اعلان
جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ العربیہ/الحدث کی نامہ نگار ...
مشرق وسطی -
لبنان: اسرائیلی فوج نے میونسپل کونسلر، کارکن کو حراست میں لے لیا
اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان کے کفرشوبا پر حملے میں ایک میونسپل کونسلر ...
مشرق وسطی -
ایردوآن: شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے ترکیہ کو بھی خطرہ ہے
"اسرائیل کو روکنا پوری انسانیت کا فرض ہے": ترک صدر
مشرق وسطی