امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ایک لڑاکا طیارے نے خلیج عمان میں تیل کے ایک ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا۔ اس بحری جہاز نے عائد امریکی محاصرے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران سے تیل منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے "ایکس" پر بتایا کہ منگل کی رات گئے جنگی طیارے نے جہاز کے انجن روم پر درست نشانہ بنانے والے ہتھیار داغے جب اس کے عملے نے بار بار امریکی افواج کے احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا۔ متعلقہ جہاز تیل کا ٹینکر "سیٹیبیلو" ہے جس پر پلاؤ کا پرچم لہرا رہا تھا۔
شدید الفاظ میں احتجاج
دوسری طرف بھارت نے عمان کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے، جس کے نتیجے میں اس کے عملے کے 3 بھارتی ارکان لاپتہ ہو گئے، کے بعد آج نئی دہلی میں ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار کو طلب کرلیا۔
اے ایف پی کے مطابق ایک بھارتی سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے والے حملے پر شدید الفاظ میں احتجاج درج کرایا۔ تجارتی جہاز "سیٹیبیلو" کے عملے کے دیگر 21 بھارتی ارکان کو بچا لیا گیا اور بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں حملے کی مذمت کی۔
ٹرمپ کی ایران کو نئے حملوں کی دھمکی
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران گزشتہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بدھ کے روز ہی امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو امریکی فوج کی جانب سے نئے حملوں کی دھمکی دی اور تہران پر جنگ ختم کرنے کے مقصد سے ہونے والے مذاکرات میں ہمارے ذہنوں کو ہلکا لینے کا الزام لگایا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان پر حملہ کریں گے، ہم ان پر بہت سخت حملہ کریں گے۔ ہم واقعی ایک معاہدے کے قریب تھے لیکن وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، وہ ہمارے ذہنوں کو ہلکا لے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے انہیں کل سخت نقصان پہنچایا اور ہم انہیں آج اس سے بھی زیادہ سخت نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں صرف دستخط کرنے ہیں، معاہدہ مکمل طور پر تیار ہے، لیکن وہ ٹال مٹول کر رہے ہیں تو میں کہتا ہوں: ٹھیک ہے، چلو انہیں کچھ اور دن دے دیتے ہیں۔
جنوبی ایران پر فضائی حملے
ٹرمپ کے یہ بیانات امریکہ کی جانب سے گزشتہ منگل کی شام جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کرنے کے فوراً بعد سامنے آئے۔ امریکی صدر نے کہا کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرایا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے امکانات کو گھیراؤ کرنے والے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی افواج نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں کی طرف میزائل اور ڈرون داغ کر جواب دیا ۔ میزائلوں اور ڈررنز کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے کہ ان سب کو مار گرایا گیا اور روک دیا گیا۔
اثاثے، یورینیم اور آبنائے ہرمز
یاد رہے امریکی پابندیوں کی وجہ سے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں اہم نکات میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ہائی انریچڈ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے کا معاملہ بھی ایرانی جوہری فائل کے اندر پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی ہے۔
مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران کو گزشتہ 13 اپریل سے اپنی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرے کے نتائج کا سامنا ہے ۔ ایران کو مقامی کرنسی کی قدر میں کمی اور بے روزگاری کا بھی سامنا ہے جو مغرب کی برسوں کی پابندیوں کے بعد پہلے سے ہی نڈھال معیشت پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔