سعودی ولی عہد کی سرپرستی میں وزارت داخلہ عالمی سلامتی اور ٹیکنالوجی سمٹ کا انعقاد کرے گی
جدید ترین سکیورٹی اختراعات کی نمائش کی جائے گی
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر سرپرستی وزارت داخلہ سنہ 2026 میں 18 سے 20 دسمبر تک ریاض میں عالمی سلامتی اور ٹیکنالوجی سمٹ (GSTS) کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس عالمی ایونٹ میں دنیا بھر سے سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے رہنما، فیصلہ ساز، ماہرین اور موجدین اکٹھے ہوں گے۔ یہ سمٹ طویق اکیڈمی کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
اس کانفرنس میں سکیورٹی ٹیکنالوجی کی جدید ترین ایجادات اور حل پیش کیے جائیں گے۔ یہ سمٹ سرکاری اداروں، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان رابطے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی تاکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے اور سکیورٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، انٹرنیٹ آف تھنگز، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اسمارٹ مانیٹرنگ اور کرائسز مینجمنٹ کے شعبوں میں تجربات کا تبادلہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اہم سیشنز، خصوصی مکالمے اور انٹرایکٹو نمائشیں بھی ہوں گی جن میں عالمی سطح پر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کی جدید ترین کامیابیوں کو دکھایا جائے گا۔
دوسری جانب سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سمٹ تجربات کے تبادلے اور سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علم اور اختراع پر مبنی ایک جدید سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے نظام کی تعمیر کے لیے مملکت کی کوششوں کا تسلسل ہے، جو تیزی سے ہوتی تبدیلیوں اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ سربراہی اجلاس بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے، کوششوں کو یکجا کرنے، بہترین طریقوں کا تبادلہ کرنے اور شرکاء کو امید افزا مواقع تلاش کرنے اور سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں کی پیش گوئی کرنے کے قابل بنائے گا، جس سے آپریشنل کارکردگی میں اضافہ ہوگا، تیاریوں کو تقویت ملے گی اور قومی کامیابیوں کا تحفظ یقینی ہوگا۔
برعاية سمو ولي العهد.. وزارة الداخلية تنظم القمة العالمية للأمن والتقنية (GSTS).#قمة_الأمن_والتقنية2026#GSTS2026 pic.twitter.com/ksQePsEpJ3
— وزارة الداخلية 🇸🇦 (@MOISaudiArabia) June 11, 2026
اس ایونٹ میں معیاری سرگرمیوں کا ایک پیکیج شامل ہے جسے خطے کے سب سے بڑے پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں سب سے نمایاں معلوماتی "سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کا مہینہ" ہے، جس میں معروف بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے خصوصی پروگرام، علمی ملاقاتیں اور تکنیکی ورکشاپس شامل ہیں، جن کا مقصد معلوماتی مواد کو بھرپور بنانا اور سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قومی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔
اسی طرح یہ سمٹ سکیورٹی کے شعبوں میں جدید ترین اختراعات اور تکنیکی حل پیش کرتی ہے اور سرکاری اداروں، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان مواصلات کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے، جس سے اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے اور سکیورٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، انٹرنیٹ آف تھنگز، نئی ٹیکنالوجیز، سمارٹ مانیٹرنگ اور کرائسز مینجمنٹ کے شعبوں میں تجربات کے تبادلے کو مدد ملتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کلیدی سیشنز، خصوصی حوار اور انٹرایکٹو نمائشیں بھی منعقد ہوں گی جو عالمی سطح پر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کی جدید ترین پیش رفت کو سامنے لائیں گی۔
سمٹ کے ایجنڈے میں سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی جدت طرازی کے لیے "سیف" عالمی مقابلے (SAIIF) کا انعقاد بھی شامل ہے، جو سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ہے اور یہ سنہ 2026 میں 19 سے 21 نومبر تک ریاض میں منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے نامور موجدین، محققین اور تکنیکی ماہرین شرکت کریں گے۔
اس مقابلے کی توجہ متعدد اہم شعبوں میں اختراعی حل تیار کرنے پر مرکوز ہے، جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا اینالیٹکس، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ان کی سکیورٹی ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل فرانزک اور تکنیکی تحقیقات، سکیورٹی اور انفراسٹرکچر کا تحفظ، اور سکیورٹی کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔ اس مقابلے کے انعامات کی مالیت پچاس لاکھ ریال ہے، جس کا مقصد شرکاء میں مقابلے کی فضا کو فروغ دینا اور معیاری تکنیکی حل کی تیاری میں مدد کرنا ہے جو مستقبل کے سکیورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہوں۔
اس سربراہی اجلاس کا انعقاد "ابشر" 2025 کانفرنس کی کامیابیوں کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے دنیا کے سب سے بڑے ہیکاتھون کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں تین عالمی ریکارڈ درج کرائے تھے، اور اس میں 60 سے زیادہ اہم سیشنز شامل تھے جن میں حکام، ماہرین اور دانشوروں نے شرکت کی، اس کے علاوہ تقریباً 150 مرد اور خواتین مقررین کی جانب سے 80 ورکشاپس پیش کی گئیں، اور اس کے ساتھ 10 انٹرایکٹو زونز نے آنے والوں اور شرکاء کے تجربے کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
توقع ہے کہ عالمی سلامتی اور ٹیکنالوجی سمٹ (GSTS) ریاض شہر کی پوزیشن کو سکیورٹی اور تکنیکی جدت طرازی کے ایک عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کرے گی، اور سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں ایک بااثر بین الاقوامی شراکت دار، اختراعی حل تیار کرنے اور عالمی سطح پر معیاری شراکت داری قائم کرنے کے ایک معروف پلیٹ فارم کے طور پر مملکت کی موجودگی کو مزید مضبوط کرے گی۔
-
سعودی عرب کی طرف سے بحرین، اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت
سعودی عرب نے بدھ کے روز بحرین، اردن اور کویت پر ایران کے تازہ حملوں کی مذمت کی۔اس ...
مشرق وسطی -
پاکستان کے لیے ترسیلات زر کے حوالے سعودی عرب کا پہلا نمبر
پاکستان کو ماہ مئی کے درمیان سعودی عرب سے آنے والے ترسیلات زر اب تک کے پچھلے تمام ...
پاكستان -
ایرانی حملوں کا اعادہ... سعودی عرب کی جانب سے مذمت اور تصادم سے گریز کی اپیل
مملکت کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والے تعمیری مذاکرات کو مکمل ...
مشرق وسطی