ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو پورا بھروسہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی کسی بھی ممکنہ ڈیل میں لبنان بھی ضرور شامل ہوگا۔ یہ بات حزب اللہ کے ایک رہنما نے جمعہ کے روز کہی ہے۔
حزب اللہ کے رہنما نے کہا انہیں امید ہے کہ امریکہ ایران کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ حزب اللہ کا قیام ایرانی پاسداران انقلاب کی مدد سے 1982 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ حزب اللہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو 28 فروری کو ان کے گھر پر بمباری کرکے ہلاک کیے جانے کے بعد ایران سے اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کے خلاف راکٹ حملے کرنے لگی تھی۔
اسرائیل اس دوران ہزاروں لبنانیوں کو بمباری کر کے ہلاک کر چکا ہے، جبکہ لاکھوں کو نقل مکانی پر مجبور کر چکا ہے۔ حتیٰ کہ لبنانی علاقے پر قبضہ بھی کر چکا ہے۔ لبنانی خبر رساں ادارے 'نیشنل نیوز ایجنسی' کے مطابق جمعہ کے روز بھی اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں میں بمباری جاری رکھی ہے۔
ایرانی حکام کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ جو بھی معاہدہ کرے گا اس کا لبنان کو بھی جنگ بندی کی صورت فائدہ ہوگا۔ یعنی لبنان اس معاہدے میں شامل ہوگا۔
اسی تناظر میں حزب اللہ کے رہنما نے کہا 'ہمیں اسلامی جمہوریہ ایران پر کامل اعتماد ہے۔ اس لیے جو بھی معاہدہ ہوگا ، لبنان کی جنگ بندی اس کا حصہ ہوگی۔حسن فداللہ نے یہ بات المنار ٹی وی کے توسط سے کہی ہے۔
ایک مغربی ذریعے نے اتوار کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ جلدی ہو جائے گا۔ اس معاہدے میں ایران ابھی تک اس بات پر اڑا ہوا ہے کہ معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔
پچھلے ہفتے ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا تھا حزب اللہ نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے کسی بھی معاہدے کی صورت لبنان اور حزب اللہ اس میں شامل ہوں گے۔
دوسری جانب حزب اللہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور اس نے اسرائیل کے ساتھ لبنانی حکومت کے مذاکرات کا بھی حصہ بننا قبول نہیں کیا ہے۔ اگرچہ لبنانی حکومت امریکی میزبانی میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔