امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی مدد سے خلیج فارس سے روزانہ لگ بھگ 70 لاکھ بیرل تیل نکل رہا ہے۔
رائٹ نے ہیوسٹن میں ایک تقریب کے دوران وضاحت کی کہ یہ مقدار ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تیل کی کھیپوں کا تقریباً نصف حصہ ہے۔
کرس رائٹ نے کہا کہ ہم ایک ایسی فوجی کارروائی کر رہے ہیں جس کے بارے میں ہم نے زیادہ بات نہیں کی۔ یہ کارروائی حال ہی میں کھیپوں کو منتقل کرنے کے لیے شروع ہوئی ہے۔
انہوں نے "بلومبرگ فار انرجی فنانس" کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب کے دوران مزید کہا کہ ایرانی خام تیل آبنائے ہرمز سے باہر نہیں جا رہا ہے ۔ انہیں توقع ہے کہ معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں خلیج کے راستے تمام مصنوعات کا آزادانہ بہاؤ دوبارہ بحال ہو جائے گا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکی فوج تیل کا بہاؤ دوبارہ شروع کرائے گی۔
سرمایہ کار کمپنی 'بیکرنگ انرجی پارٹنرز' کے سربراہ ڈین بیکرنگ نے کہا ہے کہ روزانہ 70 لاکھ بیرل کا بہاؤ اس سے زیادہ ہے جس کی تیل کی صنعت توقع کر رہی ہے۔ سی آئی بی سی پرائیویٹ ویلتھ یو ایس میں توانائی کی سینئر ٹریڈر ریبیکا بابن نے تقریب کے دوران بتایا کہ تیل کی قیمتیں، جو اس وقت 88 ڈالر کی حد میں گھوم رہی ہیں، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سرمایہ کار یہ فرض کر رہے تھے کہ پٹی کے ذریعے صرف تیس سے چالیس لاکھ بیرل کا بہاؤ ہو رہا ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے امکان ظاہر کیا کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں ایران پر عائد کچھ پابندیاں جزوی طور پر ہٹا دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران امریکہ میں پیٹرول پر عارضی ٹیکس چھوٹ کا امکان قیمتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بدھ کو کانگریس میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ امریکہ نے ایران سے لاکھوں بیرل تیل لیا ہے۔
یہ بات انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صحافیوں کو یہ بتانے کے بعد کہی تھی کہ ایسا واقعی ہو چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔
عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دارالحکومت کا حوالہ دیا جو دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی میڈیا کی جانب سے مفاہمت کے مسودے کی مبینہ تفصیلات شائع کرنے کے بعد مزید کہا کہ معاہدے کی تکمیل کے انتظار میں میڈیا کو اس کے مواد کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔