ہرمز کے قریب عسکری کشیدگی میں اضافے کے جلو میں امریکہ ۔ ایران معاہدہ ممکن؟

تصفیے کے مجوزہ متن کے خدوخال پر اختلاف برقرار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ کئی ہفتوں کے کٹھن مذاکرات اور مایوس کن توقعات کے بعد... تہران، پاکستانی ثالث اور واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے والے معاہدے کے امکان کے حوالے سے پُر امید ہیں۔

تاہم مجوزہ تصفیے کے خدوخال پر اختلاف برقرار ہے، کیونکہ ایرانی میڈیا میں گردش کرنے والی تفصیلات واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ ورژن کے مقابلے میں واضح تضاد ظاہر کرتی ہیں۔

امریکہ اور ایران نے گذشتہ روز جمعے کو اشارہ دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب ہیں۔ ایک امریکی اعلیٰ عہدے دار نے کہا کہ فریقین ایک متن پر متفق ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ واشنگٹن آنے والے دنوں میں ابتدائی معاہدے پر دستخط کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ متن میں اب بھی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں، لیکن ابتدائی معاہدہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ان کا ملک تنازع سے... زیادہ طاقت ور بن کر نکلا ہے۔

انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے بیان میں مزید کہا "امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایران فاتح ہے۔"

ان بیانات کے چند گھنٹے بعد ایک با خبر ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے کئی ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ ڈرون تجارتی نقل و حمل کے لیے خطرہ تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے 'ایکس' پر بیان جاری کیا کہ "ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں یک طرفہ حملہ آور ڈرون لانچ کیے"۔ بیان میں نشان دہی کی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز "بحری نقل و حمل کے لیے بدستور کھلی ہے"۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے آبنائے کے ساتھ ایرانی بندرگاہ سیرک اور جزیرہ قشم میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ مقامی باشندوں اور حکام نے اس کی وجہ اس فائرنگ کو قرار دیا ہے جو ایرانی افواج نے ان جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے کی جو پاسداران انقلاب کی بحریہ کی اجازت کے بغیر آبی گزرگاہ عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

متعدد ذرائع نے ذکر کیا ہے کہ مجوزہ مفاہمت کی یاد داشت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

بعد ازاں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کیے جائیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی بنیادی وجہ تھا۔

ایک امریکی عہدے دار نے صحافیوں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے بنیادی اہداف کو پورا کرتا ہے اور مذاکرات کو "بہت اچھی پوزیشن" میں رکھتا ہے۔

مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع سے مجوزہ مسودے کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں نے ان شقوں کی نشان دہی کی ہے جو ایران کے حق میں ہو سکتی ہیں۔ ان پر ٹرمپ کی جانب سے تنقید ہوئی ہے اور انہوں نے رپورٹوں کو غلط قرار دیا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات میں معمولی اختلافات کے باوجود، تجویزیں ایسی نظر آتی ہیں جیسے وہ زیادہ تر ان شقوں کو قبول کرتی ہیں جن کی تہران نے خواہش کی تھی... اور ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے سوا کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس آبنائے کو ایران نے فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بند کر دیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک عمان کے ساتھ مل کر، آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حمل پر کنٹرول برقرار رکھے گا... جہاں سے جنگ سے قبل عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اگلے اتوار تک معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں، جس کے لیے فی الحال جنیوا کو مقام کے طور پر ترجیح دی جا رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ کے عہدے دار نے ذکر کیا کہ یورپ میں معاہدے پر دستخط کرنے کے امکان پر بحث ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

عراقچی نے جمعے کو سرکاری ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "جیسے ہی ہمارے مذاکرات کے حتمی مراحل مکمل ہو جائیں گے، اس معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے اور اس کا اعلان کیا جائے گا"۔ انھوں نے اشارہ کیا کہ یہ "آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے۔ میں بہت پُر امید ہوں۔"

عراقچی نے مزید کہا کہ مفاہمت کے مسودے میں ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور تزویراتی آبنائے ہرمز کے انتظام کے بارے میں انتظامات شامل ہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ مفاہمت کو ناکام بنانے کے لیے "بہانے" تلاش کر رہا ہے۔

ادھر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "امن اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں تھا جتنا اب ہے۔"

واشنگٹن میں ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے جمعہ کو اندازہ لگایا کہ "آنے والے دنوں میں" ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کا امکان 80 سے 85 فی صد ہے، لیکن یہ "100 فیصد نہیں" ہے۔ انہوں نے مزید کہا "ہم ابھی تک منزل تک نہیں پہنچے ہیں، لیکن ہم بہت قریب ہیں۔"

یہ جنگ جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی، مشرق وسطیٰ میں بحران کا باعث بنی اور ہزاروں لوگوں کی موت کا سبب بنی، خاص طور پر ایران اور لبنان میں، اس کے علاوہ عالمی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

رواں سال 8 اپریل کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے سے سکون پیدا ہوا، جسے امریکہ کی جانب سے ایران پر بم باری، عرب خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں اور اسرائیل اور ایران کے درمیان علیحدہ تصادم (جس میں میزائل حملے اور فضائی بمباری شامل تھی) نے توڑ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں