شمالی غزہ کے رہائشی اپنے گھروں سے نقل مکانی کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی فوج نے وہاں اپنی کنٹرول شدہ زمین کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے 60 فیصد سے زائد رقبے پر قابض ہے جہاں اس نے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا ہے اور باقی ماندہ عمارتوں کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ 28 مئی کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے کنٹرول کو بڑھا کر پٹی کے 70 فیصد حصے تک لے جائے۔
جنوبی غزہ میں گواہوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مشرقی اور رفح کے شمالی علاقوں میں اپنی کنٹرول شدہ "یلو زون" کو مزید وسیع کر دیا ہے جہاں نئے نشانات اور کنکریٹ کے بلاکس لگا دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز غزہ شہر کے التفاح محلے میں ٹینکوں کے ساتھ پیش قدمی کی جس سے کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ رائٹرز کی جانب سے پیر کو لی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دو پیلے بلاکس کو جو سرحدی نشانات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، گھروں کے قریب لایا گیا ہے۔
تقریباً 20 لاکھ افراد جن میں سے زیادہ تر کئی بار نقل مکانی کر چکے ہیں اب ساحل کے ساتھ زمین کی ایک تنگ پٹی میں حماس کے کنٹرول میں عارضی خیموں یا متاثرہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اکتوبر سنہ 2025ء میں اعلان کردہ جنگ بندی اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں کو روکنے یا حماس کے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کی ضمانت دینے میں ناکام رہی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ اکتوبر سے اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران مسلح افراد نے اس کے چار فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔
دریں اثنا باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے امن کونسل کے ایلچی نکولے ملادی نوف قاہرہ پہنچ چکے ہیں تاکہ مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں کی جانب سے حماس کے رہنماؤں کے ساتھ ٹرمپ پلان کے دوسرے مرحلے پر ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھا سکیں۔
غزہ کے لیے ٹرمپ پلان کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان وسیع خلیج موجود ہے جس میں حماس کا ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے۔