شام میں وزارتِ دفاع کی بس پر حملہ، 10 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے صوبہ الحسکہ کے دیہی علاقے میں وزارتِ دفاع سے تعلق رکھنے والی ایک بس کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے جمعرات کی صبح تل تمر رأس العین روڈ پر وزارتِ دفاع کی ایک رہائشی بس پر حملہ کیا۔حملے کے نتیجے میں بس میں سوار وزارتِ دفاع کے اہلکار زخمی ہو گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زخمیوں کی تعداد تقریباً 10 اہلکاروں تک بتائی جا رہی ہے۔

تاحال حکام کی جانب سے اس حملے کی نوعیت یا ذمہ داروں کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی اعداد و شمار سامنے آنا باقی ہیں۔

خودکش حملہ

شام کی وزارتِ داخلہ نے کچھ روز قبل بتایا تھا کہ شمال مشرقی شہر الرقہ میں'' داعش'' کے ایک خودکش حملے میں داخلی سکیورٹی فورس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق شمال اور مشرقی شام کے علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز اور چیک پوسٹس کو متعدد حملوں کا سامنا رہا ہے، جن میں سے کئی کی ذمہ داری تنظیم ''داعش'' نے قبول کی ہے، خصوصاً الرقہ اور دیر الزور کے علاقوں میں۔

مئی میں بھی الرقہ شہر میں ایک موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد کی فائرنگ سے داخلی سکیورٹی کے دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

اسی طرح فروری میں الرقہ کے مغربی علاقے میں ''السباہیہ ''چیک پوسٹ پر حملے میں چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری بعد میں داعش نے قبول کی۔

حکام کے مطابق سکیورٹی ادارے اس تنظیم کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ مہینوں میں مختلف صوبوں میں 235 افراد کی گرفتاری اور داعش سے منسلک سات خلیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔اس کے علاوہ سابق حکومت کے ایسے کئی اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن پر جنگ کے دوران جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں