اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج جنوبی لبنان کے اندر 10 کلومیٹر کی گہرائی تک ایک سکیورٹی زون میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ پیش قدمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے میں لبنان میں فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کی شق موجود ہے۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا الواویہ نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ تعیناتی آپریشنل ضروریات کے مطابق کی گئی ہے اور فورسز جنوبی لبنان میں اپنے آپریشنل علاقوں میں تعینات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خطرات کو ختم کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹھوس مذاکرات
اس سے قبل خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق دو اسرائیلی عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب جنوبی لبنان میں اپنی افواج کو تعینات رکھنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔
المنطقة الأمنية في جنوب لبنان: خريطة المنطقة التي تعمل فيها قوات جيش الدفاع في جنوب لبنان
— Lieutenant Colonel Ella Waweya | إيلا واوية (@CaptainElla1) June 18, 2026
🔸وفقًا للحاجة العملياتية، ينتشر جيش الدفاع في المنطقة الأمنية على عمق نحو 10 كيلومترات داخل الأراضي اللبنانية.
🔸تمركزت قوات جيش الدفاع في مناطق عملها في جنوب لبنان، وتواصل نشاطها لإزالة… pic.twitter.com/GMMKHPhHSs
ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل واشنگٹن کے ساتھ سخت مذاکرات کر رہا ہے تاکہ جنوبی لبنان میں اپنی فوج کی موجودگی کو برقرار رکھ سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب اپنے ان موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا جن میں لبنان کے دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع علاقے میں افواج کو تعینات رکھنا شامل ہے۔
دوسرے اسرائیلی عہدیدار نے وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں یا اسرائیل کو ایران کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہیں۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل ہی امریکہ اور ایران نے ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ایران کی حمایت میں 2 مارچ کو شمالی اسرائیل پر فائرنگ کے بعد اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی حملوں میں توسیع کر دی تھی۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے لبنان میں ایک تباہ کن فضائی اور زمینی مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد حزب اللہ گروپ کا خاتمہ بتلایا گیا ہے۔
اسرائیل نے لبنان غزہ اور شام میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو اپنے اور اپنے دشمنوں کے درمیان بفر زون قرار دیا ہے جو اس کی جدید ترین سکیورٹی پالیسی کا ایک اہم پہلو ہے۔
-
لبنان کا اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا عمل ایران اور امریکہ کے مفاہمت سے آزاد ہے:لبنانی صدر
’ہم جنگ بندی کے حق میں ہیں اور ایران سمیت ہر معاونت کرنےوالے ہر ملک کا خیرمقدم ...
بين الاقوامى -
جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دو ڈرون حملے، پانچ اسرائیلی فوجی زخمی
امریکہ ایران مفاہمت کے اعلان کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی کارروائیوں ...
مشرق وسطی -
لبنان، اسرائیل مذاکرات میں انخلا کے مرحلہ وار پلان پر غور متوقع
لبنان میں عوام کی نظریں آئندہ بدھ 22 جون 2026 کو واشنگٹن میں ہونے والے لبنان اور ...
بين الاقوامى