لبنان: جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود نبطیہ پر تین اسرائیلی فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ پر تین فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے اور لبنانی محاذ پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں۔

یہ حملے اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے عناصر کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب لبنان کی جنوبی سرحدوں پر وقفے وقفے سے کشیدگی جاری ہے۔ یہ فریقین کے درمیان وسیع تر جھڑپوں کی واپسی کو روکنے کی سفارتی کوششوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

یہ کشیدگی جنگ بندی کے انتظامات کے آغاز کے بعد سے زمینی سطح پر ہونے والی اہم ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے، جو علاقائی مفاہمتوں کے اس وسیع تر پیکیج کا حصہ تھیں جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کو قابو میں کرنا اور جاری سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔

کشیدگی میں کمی کے لیے بین الاقوامی دبائو

اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے متعدد رہنماؤں کی جانب سے بار بار کی جانے والی ان اپیلوں کے باوجود سامنے آئے ہیں جن میں پُر سکون رہنے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنے پر زور دیا گیا تھا جو موجودہ مفاہمتوں کو نقصان پہنچا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زائد مواقع پر لبنان میں جنگ بندی کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی نئی کشیدگی خطے میں استحکام کو مستحکم کرنے اور جاری مذاکراتی راستوں کی حمایت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

متعدد بین الاقوامی فریقوں نے بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسی فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے جو حالات کو وسیع تر تصادم کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر موجودہ مرحلے کی نزاکت اور لبنان، ایران اور اسرائیل سے جڑے علاقائی معاملات کے باہمی انخلا کے تناظر میں۔

معاہدے کے ایک نیا چیلنج

یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور طویل مدتی سکیورٹی و سیاسی انتظامات پر بات چیت کے لیے امریکی اور بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں۔

باہمی فوجی کارروائیوں کا جاری رہنا خواہ وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہوں، معاہدے کی بقا کی صلاحیت کا ایک حقیقی امتحان ہے، خاص طور پر اس صورت حال میں جب ہر فریق اس چیز کا جواب دینے کے حق پر اصرار کر رہا ہے جسے وہ اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات یا ہلاکتوں کے بارے میں اب تک کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ سیاسی اور سکیورٹی حلقے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ واقعات اپنے محدود دائرہ کار میں رہیں گے یا جنوبی محاذ پر کشیدگی کی ایک نئی لہر کا باعث بنیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں