قطری وزیر اعظم شیخ محمد آل ثانی نے سویٹزرلینڈ میں آج جمعہ کو شروع ہونے والے ایرانی امریکی مذاکرات کے التوا کے بعد پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنے ملک کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق آل ثانی نے سویٹزرلینڈ کے بورگن سٹاک ریزورٹ میں سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کاسس کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ یہ مذاکرات علاقائی سلامتی کو بڑھانے اور تعاون، ترقی اور خوشحالی کے نئے افق کھولنے میں مددگار ثابت ہوں گے جس سے خطے اور دنیا کے عوام کے مشترکہ مفادات حاصل ہوں گے۔
رئيس مجلس الوزراء وزير الخارجية @MBA_AlThani_ يجتمع مع وزير الخارجية السويسري @ignaziocassis
— الخارجية القطرية (@MofaQatar_AR) June 19, 2026
منتجع بورغنشتوك (سويسرا) | 19 يونيو 2026
اجتمع معالي الشيخ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثاني، رئيس مجلس الوزراء وزير الخارجية، اليوم في منتجع بورغنشتوك بسويسرا ، مع سعادة السيد… pic.twitter.com/lkP63SAaR3
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے دونوں ملکوں کے مابین تعاون کے تعلقات اور انہیں سہارا دینے اور فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ خطے کی تازہ ترین پیش رفت خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
جنگ بندی
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت داؤ پر لگ چکی ہے کیونکہ لبنان میں جھڑپوں کی شدت میں اضافے کے باعث سویٹزرلینڈ میں دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
سوئس حکومت نے تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق کلیدی معاملے کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ عمل شروع کرنے کے مقصد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سویٹزرلینڈ میں جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے دور بیٹھ کر مفاہمت، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی دفعات شامل ہیں، کی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد یہ طے تھا کہ جمعہ کو سویٹزرلینڈ میں اس پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے اور مذاکرات کے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔
یہ تقریب جے ڈی وینس اور ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قاليباف کی موجودگی میں ہونا تھی جنہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے واحد دور میں اپنے اپنے ممالک کے وفود کی قیادت کی تھی۔
تاہم جےڈی وینس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا اور اسی طرح پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی جن کے ملک نے ثالثی کا فریضہ انجام دے کر معاہدے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جانب تہران نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات بدھ کی رات امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت میں مخصوص شرائط اور شقوں پر عمل درآمد کے آغاز سے مشروط تھے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا انحصار امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی مخصوص شقوں پر عمل درآمد شروع ہونے اور اس کے جاری رہنے پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمت کی یادداشت پر الیکٹرانک اور باضابطہ طور پر دستخط کیے گئے تھے جس کی وجہ سے سویٹزرلینڈ کا اجلاس فی الوقت غیر ضروری ہو گیا ہے۔