جنوبی لبنان میں عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت 1.38 ارب ڈالر: رپورٹ

اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران 11095عمارتیں مکمل تباہ، 17891 متاثر ہوئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور سائنسی تحقیق کی قومی کونسل نے پیر کے روز اندازہ لگایا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران جنوبی لبنان میں عمارتوں کو پہنچنے والے براہ راست نقصانات کی مالیت 1.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ فریقین نے ایک مشترکہ بیان میں بتایا کہ اکتوبر 2025 اور اپریل 2026 کے درمیان نقصانات کے تیز رفتار جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی لبنان میں عمارتوں کو پہنچنے والے کل براہ راست نقصانات کا اندازہ تقریباً 1.38 ارب امریکی ڈالر ہے۔ 11,095 عمارتوں کی مکمل تباہی ریکارڈ کی گئی۔ 17,891 رہائشی یونٹس متاثر ہوئے ہیں۔

لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی نائب صدر جے ڈی فینس نے پیر کے روز اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے ایک سیل قائم کرنے پر بات چیت کی۔ امریکی نائب صدر کے مطابق اس اقدام کا مقصد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان نئی کشیدگی کے بڑھنے سے بچنے کو یقینی بنانا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے پہلے سیشن کے بعد لبنان کے حوالے سے پاکستانی اور قطری ثالثوں نے اعلان کیا کہ تہران اور واشنگٹن نے فوجی کارروائیوں کی بندش کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے تنازعات کے حل کا ایک سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جھڑپوں نے مذاکرات پر منفی اثر ڈالا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کے روز جھڑپیں اس کے باوجود جاری رہیں کہ ایرانی امریکی مفاہمت کی یادداشت کی پہلی شق میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا ذکر تھا۔ اس کے جواب میں تہران نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے رک گئے۔ اسرائیل نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ سرحد پر واقع اپنے شمالی علاقوں پر عائد تمام پابندیاں پیر کی صبح سے ختم کر رہا ہے۔ اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں جبب تک ضروری ہوگی رہے گی۔ دوسری طرف رائٹرز کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے لبنان میں کسی بھی اسرائیلی سکیورٹی زون کی موجودگی کو مسترد کر دیا۔

تنازعات کے حل کا ایسا سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جس میں اسرائیل شامل نہیں ہے۔ یہ اتفاق واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی فریقین کے درمیان منگل سے شروع ہونے والے براہ راست مذاکراتی دور کے آغاز کی شام کو سامنے آیا۔ یہ گزشتہ دو مارچ کو شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے بعد دونوں فریقین کے درمیان پانچواں دور ہوگا۔

لبنانی حکام نے گزشتہ مہینوں کے دوران لبنان کے معاملے کو ایران سے الگ کرنے پر کام کیا ہے اب واشنگٹن مذاکرات کو کامیاب بنانے کی طرف دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ جنگ کو روکا جا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا تعین کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں