العربیہ اور الحدث چینلوں کے ذرائع نے آج جمعہ کو انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات 28 اور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اشتوک میں ہوں گے۔
ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو واضح کیا کہ آنے والے مذاکرات تکنیکی اور ماہرین کی سطح پر ہوں گے جس میں ثالث بھی موجود ہوں گے۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس پر مسلط کی جانے والی جنگ کے بعد عملی طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا، جس کی وجہ سے تیل کی سپلائی معطل ہو گئی تھی اور توانائی کی عالمی مارکیٹوں اور مجموعی طور پر معیشت میں عدم استحکام پھیل گیا تھا۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے کے علاوہ فریم ورک جنگ بندی معاہدے کی دیگر شقوں پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔ ان میں ایران کے لیے مالی مراعات، جوہری معائنہ اور لبنان میں اسرائیلی جنگ شامل ہیں۔
معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سمیت زیادہ پیچیدہ مسائلکے حل تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کے اندر مذاکرات کیے جائیں گے۔
-
امریکہ نے زیر تحویل آئل ٹینکر کے عملے کے 22 ایرانیوں کو پاکستان کے حوالے کر دیا
اسلام آباد رہا کیے گئے ملاحوں کی واپسی کو آسان بنانے کے لیے ایرانی مشن کے ساتھ کام ...
پاكستان -
جنگ کے بعد ایران میں 'انتہائی ٹھوس' جوہری تصدیق کی ضرورت ہے: سربراہ آئی اے ای اے
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ نے جمعہ کو کہا ہے کہ شرقِ اوسط تنازعے ...
مشرق وسطی -
ایران: تہران سے رابطہ کاری کے بغیر ہرمز سے محفوظ راستے کی ضمانت نہیں مل سکتی
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا، ایران سے رابطہ کاری کے بغیر ...
مشرق وسطی