امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ مذاکرات... رقوم پر ابتدائی اتفاق اور ہرمز پر بات چیت جاری
جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے 18 اگست کی مہلت سے تجاوز کرنے پر کوئی اعتراض نہیں : ٹرمپ
العربیہ / الحدث کے ذرائع نے آج بدھ کو بتایا ہے کہ دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے لیے 3 ارب ڈالر کی رہائی پر ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ عمان کی جانب سے پیش کردہ نئے منصوبے کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور مذاکراتی وفود مشاورت کے لیے اپنے ممالک کو واپس جائیں گے۔
ذرائع نے اس سے قبل آج اطلاع دی تھی کہ امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے تاکہ نقطہ نظر کو قریب لایا جا سکے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد نے قطری ثالث کے ساتھ بات چیت شروع کی جبکہ اسی وقت ایرانی وفد کی پاکستانی ثالث کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا۔
مذاکرات کے طریقہ کار سے واقف ایک سفارت کار کے مطابق امریکی اور ایرانی مندوبین آج بدھ کو دوحہ میں بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کر رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت کی شقوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہیں۔ فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق سفارت کار نے کہا کہ امریکی اور ایرانی حکام بدھ کو دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے مفاہمت کی یاد داشت پر تکنیکی مذاکرات کر رہے ہیں، جو سوئٹزرلینڈ میں جھیل لوسرن سربراہی اجلاس کے دوران ہونے والی پیش رفت پر مبنی ہیں۔
روئٹرز نے ایک با خبر ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قطری اور پاکستانی ثالثی اور اعلیٰ مذاکرات کاروں اور ماہر ٹیموں کی شرکت سے بالواسطہ تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ امریکی وفد نے کل قطر کے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی تاکہ اجلاسوں میں شرکت کیے بغیر آج کے تکنیکی مذاکرات کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ایسے میں جب کہ دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں... امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس دیگر راستے بھی موجود ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کو ایران کے خلاف وسیع جنگ دوبارہ شروع کرنے کے راستوں کے بارے میں آگاہی دی گئی تھی، لیکن انہوں نے فی الحال سفارتی راستے پر چلنے کو ترجیح دی۔ اخبار نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو بتایا کہ وہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے 18 اگست کی ڈیڈ لائن سے آگے جانے پر اعتراض نہیں کرتے، یہ مانتے ہوئے کہ وسیع حملے مذاکرات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور معاہدے کے امکانات کو کمزور کر سکتے ہیں، جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی آپشن کو برقرار رکھا گیا ہے۔
دوحہ میں مذاکراتی عمل کے حوالے سے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی اعلیٰ سطحی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ دوحہ قطر میں ثالثوں سے ملاقات اور خطے کے مختلف امور پر بات چیت کے تناظر میں ہے، جن میں یقیناً ایران اور لبنان کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ شامل ہے۔
ادھر قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد عبدالرحمن الثانی نے امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے سامنے تصدیق کی کہ قطر ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت سے پیدا ہونے والے مذاکرات کے تمام راستوں کی حمایت کرے گا۔ قطری وزارت خارجہ نے بتایا کہ وٹکوف اور کشنر نے مذاکراتی راستے کو جاری رکھنے اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔
اپنی جانب سے ایران نے قیاس آرائی کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت کے تحت، قطر میں اس کے منجمد اثاثوں کی رہائی پر بات چیت ہو گی۔ ساتھ اس بات کی تصدیق کی کہ وہ دوحہ پہنچنے والے امریکی وفد سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران مفاہمت کی یاد داشت کی شرائط پوری ہونے تک کسی اور مذاکرات میں داخل نہیں ہو گا۔
-
سرکاری ٹیلی ویژن نے قالیباف کا انٹرویو نشر ہونے کے دوران اچانک روک دیا:ایرانی میڈیا
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے ...
بين الاقوامى -
امریکی ناکہ بندی کے دوران ایران ’ایک بھی بیرل تیل‘ برآمد نہیں کر سکا: قالیباف
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک ...
مشرق وسطی -
امریکہ ایران معاہدے کے بعد قطر میں مذاکرات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
ایران نے کہا ہے کہ وہ بدھ کو قطری ثالثین سے ملاقات کر رہا ہے تاکہ امریکہ سے ...
مشرق وسطی