عراقی وزیراعظم کے قانونی مشیر، جج منیر حداد نے انکشاف کیا ہے کہ 2003 سے اب تک عراق سے لوٹی گئی رقوم کا حجم 2 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ بدعنوانی اور ملزمان کی جائیدادوں کے اعداد و شمار ''عقل و منطق سے بالاتر'' ہیں۔
عراقی خبر رساں ایجنسی (واع) کے مطابق منیر حداد نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، اس لیے اب تک گرفتار افراد کی حتمی تعداد موجود نہیں، تاہم روزانہ کی بنیاد پر چھاپوں اور کارروائیوں کے باعث یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی ملزمان نے تفصیلی اعترافات کیے ہیں، جن کی بنیاد پر سکیورٹی اور عدالتی اداروں نے مزید کئی ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
منیر حداد کے مطابق بعض مطلوب افراد نے عراق سے فرار ہونے یا کردستان ریجن میں پناہ لینے کی کوشش کی، تاہم کردستان حکومت نے تعاون کرتے ہوئے اب تک آٹھ مطلوب افراد کو وفاقی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی فہرست میں موجودہ اور سابق اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے علاوہ ارکانِ پارلیمان بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول زیرِ تفتیش جرائم صرف روایتی خرد برد تک محدود نہیں بلکہ غیر معمولی مالی اثاثوں میں اضافے کے مقدمات بھی شامل ہیں، جن کی جانچ ''یہ دولت کہاں سے آئی؟'' کے قانونی اصول کے تحت کی جا رہی ہے اور انہیں قانونی طور پر منی لانڈرنگ کے جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔
عراقی وزیراعظم کے قانونی مشیر نے مزید کہا کہ بعض نائب وزرا اور دیگر عہدیداروں کے قبضے سے برآمد ہونے والے اثاثوں اور رقوم کی مالیت ناقابلِ یقین ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ملزم کی اہلیہ نے 50 لاکھ ڈالر مالیت کی جائیداد خریدی، جو ان کے بقول پیرس یا ایمسٹرڈیم میں ایک انتہائی عالی شان ولا تعمیر کرنے کے لیے کافی رقم ہے۔
علاوہ ازیں بعض سرکاری عہدیداروں کے نام یا ان کے اہلِ خانہ کے نام پر 50 سے زائد جائیدادیں رجسٹرڈ پائی گئی ہیں۔
منیر حداد نے مزید کہا کہ انسدادِ بدعنوانی مہم کا دائرہ ناصریہ، عمارہ اور دیگر تمام صوبوں تک وسیع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کا استثنا یا ریڈ لائن نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، جبکہ تحقیقات اور چھاپے مکمل رازداری سے جاری ہیں تاکہ مطلوب افراد کو فرار ہونے کا موقع نہ ملے۔
ان کے مطابق عراقی وزیراعظم نے اس معاملے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ان سیاسی حلقوں کے دباؤ اور اعتراضات مسترد کر دیے ہیں، جو اعترافی بیانات کے نتیجے میں اپنے خلاف کارروائی سے خائف ہیں۔
حداد نے کہا کہ یہ مہم بالآخر کھلی عدالتوں میں عوامی مقدمات تک پہنچے گی، جہاں سماعتیں شہریوں کے سامنے نشر کی جائیں گی، بالکل اسی طرح جیسے سابق عراقی صدر صدام حسین اور ان کے دورِ حکومت کے مقدمات کی کارروائی نشر کی گئی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جس شخص پر جرم ثابت ہوگا، اس کی جگہ جیل ہوگی۔ اگر کسی ملزم کو ضمانت پر رہائی بھی ملتی ہے، تو اس کا مطلب ہرگز بریت نہیں، کیونکہ اسے بعد میں عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔
ان کے بقول کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا، خصوصاً اس لیے کہ ضمانت پر رہائی کے لیے مبینہ طور پر اتنی ہی مالیت کی رقم جمع کرانا ہوگی، جتنی رقم کی خرد برد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔