شامی وزارت صحت نے آج جمعے کو اعلان کیا ہے کہ گذشتہ روز دار الحکومت دمشق میں ایک کیفے کو نشانہ بنانے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے جبکہ 21 افراد زخمی ہیں۔ حکام حملے کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
وزارت نے واضح کیا کہ متاثرین میں سے ایک زخمی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر دس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ دھماکہ دمشق کے وسط میں ایک مصروف تجارتی اور رہائشی سڑک پر واقع قصرِ عدل کے قریب ایک کیفے کے اندر ہوا تھا۔
شامی وزارت صحت نے جمعرات کے روز نو افراد کی ہلاکت اور 20 کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اب یہ تعداد 10 ہلاک شدگان اور 21 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے۔
ابتدائی نتائج کے حوالے سے شامی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دھماکہ تقریباً ایک کلوگرام وزنی دیسی ساختہ بم سے ہوا، جس میں دھاتی ٹکڑے بھرے گئے تھے۔ اس کی وجہ سے کیفے کے اندر شدید چوٹیں آئیں اور بھاری نقصان ہوا۔
حکام نے تصدیق کی کہ وہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اور حملے میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ اب تک کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے جمعرات کے روز اطلاع دی تھی کہ کرمنل سکیورٹی ٹیموں نے ہدف بننے والے کیفے کے اندر سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ دمشق کے گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ "ہر وہ شخص جو شام کی سکیورٹی کے ساتھ کھیلے گا، اسے اس کی سزا ملے گی۔"
اس حملے پر عرب اور عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ، عرب لیگ، خلیجی ممالک اور ترکیہ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کو مسترد کیا ہے۔
یہ دھماکہ جون 2025 میں الدویلہ کے علاقے میں ایک چرچ کو نشانہ بنانے والے خود کش حملے کے بعد دمشق میں سب سے زیادہ خون ریز ہے۔ چرچ دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری ایک انتہا پسند گروپ نے قبول کی تھی، جبکہ شامی حکام نے اسے داعش سے منسوب کیا تھا۔
داعش تنظیم وقتاً فوقتاً شامی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کرتی رہتی ہے۔ شامی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر میں سکیورٹی تعاون کو بڑھانے اور دہشت گردانہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد برائے انسدادِ داعش میں با ضابطہ شمولیت کا اعلان کیا تھا۔