انسانی حقوق گروپ: ایران میں قید برطانوی جوڑے کی بھوک ہڑتال جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں جاسوسی کے الزام میں جیل میں قید دو برطانوی جیل کے حالات پر بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہیں اور انہیں مناسب طبی نگہداشت اور ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کروانے سے انکار کا سامنا ہے، ایرانی انسانی حقوق کی امریکہ میں قائم خبر رساں ایجنسی HRANA (ہرانا) نے پیر کو بتایا۔

ہرانا نے موصولہ معلومات اور جوڑے کے حالات سے واقف ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کریگ اور لنڈسے فورمین کا ہڑتال کے دوران بالترتیب تقریباً 16 کلو اور 14 کلو سے زیادہ وزن کم ہو گیا۔ اور یہ کہ لنڈسے فورمین کو چکر آنے، جسم میں لرزش اور شدید کمزوری کے باوجود تقریباً 10 دنوں سے ان کا طبی معائنہ نہیں کرایا گیا تھا۔

ہرانا نے کہا کہ جوڑے کو حال ہی میں ان کے وکیل سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی گئی لیکن انہیں خاندان یا ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ نیز یہ کہ برطانوی سفارت خانے کی ارسال کردہ ادویات، چشمے، کتابیں اور حفظانِ صحت کی اشیاء جیل کے طبی عملے اور وارڈ حکام کی منظوری کے باوجود انہیں نہیں پہنچائی گئیں۔

فورمین جوڑے کو جنوری 2025 میں موٹرسائیکل کے ذریعے ایران سے سفر کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور جاسوسی کے الزام میں ہر ایک کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جون میں اپیل پر سزا برقرار رکھی گئی۔ انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور انہیں دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔

ایرانی حکام فوری طور پر تبصرہ کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

فروری میں برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے برطانوی افراد کی سزا کو "مکمل طور پر ناقابلِ جواز" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا تھا کہ برطانوی حکومت ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالتی رہے گی۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ برسوں میں جاسوسی یا قومی سلامتی کے الزامات کے تحت غیر ملکیوں اور دوہری شہریت کے حامل افراد کو حراست میں لیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ حکام ایسی گرفتاریوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ تنازعات میں فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ عمل سیاسی محرکات کی بنا پر ہونے والی نظربندیوں کے وسیع سلسلے کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں سکیورٹی کے جائز خدشات شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں