پانی روکنا اعلان جنگ، جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، قومی سلامتی کمیٹی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

پاکستان نے شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی کا عندیہ دیتے ہوئے بھارت کیلئے فضائی حدود، سرحدی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتی عملے کو 30 ارکان تک محدود کرنے کے علاوہ بھارتی دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے، پاکستان نے سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے یک طرفہ جارحانہ اقدامات کے خلاف وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں ملک کی سول اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی اور جارحیت کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کی صورتحال اور خطے میں امن و امان پر تفصیلی غور کیا گیا، خاص طور پر 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے تناظر میں۔

بیان کے مطابق کمیٹی نے غیر ملکی سیاحوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا اور بھارت کی جانب سے 23 اپریل کو کیے گئے یکطرفہ اقدامات کو سیاسی مقاصد کے تحت غیر منصفانہ، غیر ذمہ دارانہ اور قانونی جواز سے عاری قرار دیا۔

اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے شرکا نے 22 اپریل 2025 کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پہلگام حملے کے تناظر میں خاص طور پر قومی سلامتی کی صورتحال اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

کمیٹی کے اہم فیصلے

1. پاکستان، بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ پانی کی روانی میں کسی بھی رکاوٹ کو "اعلان جنگ" تصور کیا جائے گا، جس کا ہر سطح پر مکمل جواب دیا جائے گا۔

2. بھارت کے غیر ذمہ دار رویے کے پیش نظر پاکستان نے تمام دوطرفہ معاہدوں بشمول شملہ معاہدہ کو بھی معطل رکھنے کا حق محفوظ رکھا ہے جب تک بھارت دہشتگردی، سرحد پار قتل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں سے باز نہیں آتا۔

3. واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ 30 اپریل 2025 تک صرف وہ افراد جن کے ویزے درست ہیں، واپسی کے لیے اس راستے کو استعمال کر سکیں گے۔

4. سارک ویزہ استثنیٰ اسکیم کے تحت بھارتی شہریوں کو جاری کیے گئے تمام ویزے منسوخ کیے جاتے ہیں۔ صرف سکھ یاتری اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ دیگر بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

5. بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو "ناپسندیدہ شخصیات" قرار دے کر 30 اپریل 2025 تک پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

6. بھارتی ہائی کمیشن کی عملے کی تعداد کو 30 تک محدود کر دیا گیا ہے۔

7. پاکستان کی فضائی حدود بھارتی ملکیتی یا بھارتی آپریٹڈ ایئر لائنز کے لیے فوری طور پر بند کی جا رہی ہے۔

8. بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں، خواہ کسی تیسرے ملک کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوں، فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر اور بھرپور جواب دیں گی، جیسا کہ فروری 2019 میں دکھایا گیا تھا۔

کمیٹی کی اہم مشاہدات

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک حل طلب تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے۔

پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

بھارت کی ریاستی جبر، ریاستی حیثیت کا خاتمہ، سیاسی و آبادیاتی چالاکیاں، مسلسل مزاحمت اور تشدد کے چکر کو جنم دیتی ہیں۔

بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ریاستی سطح پر ظلم و ستم بڑھ چکا ہے، اور وقف املاک بل جیسے اقدامات اس استحصال کا تسلسل ہیں۔

بھارت کو چاہیے کہ ایسے افسوسناک واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرے اور اپنی سیکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرے۔

دہشت گردی پر پاکستان کا مؤقف

پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور اس کے خلاف سب سے آگے رہا ہے، جس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔

بھارت کی کوشش ہے کہ وہ مشرقی سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرکے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو سبوتاژ کرے۔

بغیر کسی تحقیق یا ثبوت کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا بے بنیاد اور غیر منطقی ہے۔

بھارتی ریاستی دہشت گردی

بھارت کا جھوٹا بیانیہ اپنی دہشت گردی کو چھپا نہیں سکتا، پاکستان کے پاس بھارتی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں، جن میں بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کمانڈر کلبھوشن یادیو بھی شامل ہے۔

عالمی برادری کیلئے پیغام

بھارتی بیان میں دی گئی دھمکی آمیز زبان کی مذمت کی گئی اور بین الاقوامی برادری کو بھارت کی سرحد پار قتل و غارت گری کی کارروائیوں سے خبردار کیا گیا۔

پاکستان مجرموں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان کی خودمختاری پر کسی قسم کا حملہ پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

اختتامی پیغام

پاکستان کے عوام اور افواج اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں۔

بھارت کی حالیہ جارحیت نے دو قومی نظریہ اور قائدِاعظم محمد علی جناح کے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے۔

پاکستانی قوم امن کی خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری، سلامتی، عزت اور ناقابلِ تنسیخ حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں