ایرانی وزارتِ خارجہ کا امریکا پرمفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز امریکا پر جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں، آبنائے ہرمز میں طے شدہ انتظامات کی مبینہ خلاف ورزی اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے تسلسل نے عارضی معاہدے کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے بدھ کی علی الصبح ایران کے جنوبی ساحل پر واقع نگرانی اور مانیٹرنگ مراکز کو نشانہ بنایا، جسے اس نے فوجی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور مفاہمتی یادداشت میں شامل فوجی کارروائیاں روکنے کی شق کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی، اور آبنائے ہرمز میں ایران کے طے شدہ انتظامات کی مبینہ خلاف ورزی نے معاہدے کے اہم حصوں کو عملی طور پر بے معنی بنا دیا ہے۔

کشیدگی میں مزید اضافہ

ایران نے عارضی مفاہمتی معاہدے میں تعطل کو لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے بھی جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کے سنگین نتائج کی ذمہ داری امریکی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

وزارت نے زور دیا کہ ایرانی مسلح افواج اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کریں گی۔

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے جنوب مغرب میں واقع ساحلی شہر بوشہر میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

تاہم دھماکوں کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ بوشہر میں ایران کا واحد سول جوہری بجلی گھر واقع ہے۔

بوشہر کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہ ایران کے اہم ترین تیل بردار جزیرے خارک کے قریب واقع ہے، جہاں سے عموماً ایرانی خام تیل کی زیادہ تر برآمدات کی جاتی ہیں۔

یہ تمام پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ ایک جانب امریکا نے ایران کے فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے خلیجی خطے میں جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ان حالات میں عارضی مفاہمتی معاہدے کے ٹوٹنے اور خطے میں دوبارہ کھلی فوجی محاذ آرائی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا، پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ ڈرون حملے میں اس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ تاہم حملہ کہاں ہوا اور اس کے پیچھے کون تھا، اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے اور آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک مقامی ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کی صبح صوبہ بوشہر میں واقع دو فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

یورپی فضائی تحفظ کی نئی وارننگ

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے فضائی کمپنیوں کے لیے نیا انتباہ جاری کرتے ہوئے انہیں ایران اور عراق کی فضائی حدود میں ہر قسم کی پروازوں سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور مزید فوجی کارروائیوں کے خدشات کے باعث شہری ہوابازی کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، اس لیے فضائی کمپنیوں کو دونوں ممالک کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ایاسا نے واضح کیا کہ یہ سفری ہدایت 31 اگست تک مؤثر رہے گی۔ اس سے قبل بھی ایجنسی خطے کے متعدد ممالک کے حوالے سے اسی نوعیت کی حفاظتی وارننگ جاری کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں