یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ پالیسی کایا کالاس نے بدھ کو کہا ہے کہ شرقِ اوسط میں ایران اور امریکہ کے درمیان نئے حملوں سے جنگ بندی مذاکرات پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
"امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے جنگ بندی کے لیے پہلے ہی نازک مذاکرات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ بحرین اور کویت پر ایران کے حملے ناقابلِ قبول ہیں،" کالاس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا۔
"ہم کس طرح معاہدے پر عمل درآمد کی حمایت کرنے اور آبنائے اور بحیرۂ احمر میں جہازرانی کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں، اس بات پر تبادلۂ خیال کے لیے اگلے پیر کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اپنے خلیجی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے،" انہوں نے مزید کہا۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے منگل کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا اور آبنائے ہرمز میں تین ٹینکرز کے میزائلوں کی زد میں آنے کے بعد ایران کے لیے تیل فروخت کرنے کا لائسنس منسوخ کر دیا۔
-
ٹرمپ: ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا عبوری معاہدہ 'ختم' ہو گیا
ایران کو تیل کی فروخت کے لیے جاری کردہ لائسنس منسوخ
بين الاقوامى -
یورپی یونین ایوی ایشن ایجنسی کی31 اگست تک ایران،عراق اورلبنان کی فضائی حدود سےگریزکی ہدایت
جیسا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کا تبادلہ ہوا ہے تو یورپی یونین ایوی ...
بين الاقوامى -
ایران کا خلیج میں 85 امریکی مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں ...
بين الاقوامى