امریکہ کا ایران کے خلاف اپنے حملوں میں پہلی بار ایک نئے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سینٹ کام (مرکزی فوجی کمان) نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز ایران کے خلاف کیے گئے حملوں میں پہلی بار یک طرفہ حملہ آور ڈرون اور یک طرفہ حملہ آور بحری ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق "یہ کم لاگت والے ڈرونز جو ایرانی شاہد ڈرونز سے متاثر ہو کر بنائے گئے ہیں، اب امریکی جوابی کارروائیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔" تاہم سی این این کی رپورٹ کے مطابق بیان میں ان ڈرونز کی مخصوص اقسام یا حملوں میں شامل ہر زمرے کی تعداد کی وضاحت نہیں کی گئی۔

امریکی بحر الکاہل کمانڈ کے سابق جوائنٹ انٹیلی جنس سینٹر کے ڈائریکٹر اور عسکری تجزیہ کار کارل شوستر کا کہنا ہے کہ امریکہ ان میں سے کئی اقسام کا تجربہ کر چکا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ "فلیٹ کلاس" (Fleet-class USV) زمرے کی بغیر پائلٹ کی سطحی گاڑیاں یک طرفہ حملوں کے لیے سب سے موزوں ہیں"۔

شوستر نے سی این این کو بتایا کہ یہ کشتیاں بنیادی طور پر بارودی سرنگوں کے خاتمے اور آبدوز مخالف جنگ کے مشنز کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں، لیکن ان کی رفتار جو 40 میل فی گھنٹہ سے زیادہ ہے، انہیں خودکش حملوں کے لیے قابل استعمال بناتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک کشتی کی لاگت 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے، لیکن اسے روکنا مشکل ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغیر پائلٹ کی کشتیاں اور "لوکس" (LUCAS) ڈرونز امریکی بحریہ کے ساحلی جنگی جہازوں سے لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

یہ امریکی حملہ آور ڈرونز ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں تب استعمال ہوئے تھے جب سینٹ کام نے "کم لاگت والا بغیر پائلٹ کامبیٹ اٹیک سسٹم" (LUCAS) تعینات کیا تھا۔ یہ بنیادی طور پر ایرانی ساختہ "شاہد-136" ڈرونز کا ہم پلہ ہے، جنہیں روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں بڑی تعداد میں استعمال کیا تھا۔

پیر کے روز سینٹ کام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور ایران اس پر قابض نہیں ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس نے "ایرانی ملٹری ایئر ڈیفنس سسٹمز، ساحلی ریڈار سائٹس، میزائل صلاحیتوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کو امریکی لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، یک طرفہ حملہ آور ڈرونز اور پہلی بار استعمال ہونے والی یک طرفہ حملہ آور بحری کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔"

دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے آج اعلان کیا کہ اس نے کویت، بحرین اور اردن کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسداران انقلاب نے تصدیق کی کہ یہ حملے ایرانی ساحل پر فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے والے امریکی حملوں کا رد عمل ہیں۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ اس کی فوجی کارروائیاں "ابھی جاری ہیں"۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب بحران کو ایک وسیع تر جنگ میں بدلنے سے روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے خطے میں مکمل تصادم کی طرف واپسی کے خطرناک نتائج کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں