یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظالم حوثیوں نے صنعاء کے ہوائی اڈے پر ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ایک طیارے کو یرغمال بنا لیا ہے اور اسے پرواز کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ الاریانی نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ اور ان کے معاون کو حراست میں لے کر بطور یرغمال رکھا گیا ہے۔
اپنے ایک انتباہی پیغام میں الاریانی نے کہا کہ یہ اقدام ایک خطرناک چڑھائی اور بین الاقوامی انسانی قانون، روایات اور ان میثاقوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جو انسانی مشنوں اور ان کے کارکنوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس "مجرمانہ طرزِ عمل" کو حوثیوں کی قانونی اور انسانی معیارات سے عاری ہونے کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا اور الزام لگایا کہ ملیشیا انسانی اداروں اور ان کے کارکنوں کو سیاسی بلیک میلنگ اور دباؤ ڈالنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
یمنی وزیر اطلاعات نے ریڈ کراس، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس انسانیت سوز واقعے کی بھرپور مذمت کریں، طیارے اور اس کے عملے کی فوری رہائی کے لیے عملی اقدام اٹھائیں اور یمن میں انسانی امدادی کاموں کے خلاف ہونے والی اس سفاکیت کا خاتمہ کریں۔
خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی
دوسری جانب یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں حالیہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ حوثی ملیشیا امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور شہریوں کے مفادات کے تحفظ کی تمام تر کاوشوں کو مسترد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
في هذه اللحظات أقدمت مليشيا الحوثي الإرهابية على احتجاز طائرة اللجنة الدولية للصليب الأحمر الدولي في مطار صنعاء، ومنعت مغادرتها، كما احتجزت الطيار ومساعده كرهينتين، في تصعيد خطير وانتهاك سافر للقانون الدولي الإنساني ولكافة الأعراف والمواثيق الدولية التي تكفل حماية البعثات…
— معمر الإرياني (@ERYANIM) July 13, 2026
العلیمی نے انتہائی دکھ اور غصے کے ساتھ کہا کہ تمام تر ثالثیوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود حوثی ملیشیا نے ایک نئی ایرانی پرواز کا استقبال کیا جو شہری ہوابازی کے قانونی اور خودمختاری کے اصولوں سے مکمل طور پر متصادم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یمنی حکومت نے اپنے قومی فضائی کیریئر "یمنیہ ایئر لائنز" کے ذریعے شہری پروازوں کی بحالی کی مکمل آمادگی ظاہر کی تھی، تاکہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہو اور ہوائی اڈے کا آپریشن بھی جاری رہے۔ انہوں نے ایران سے حوثی عناصر کی واپسی کے لیے بھی یمنیہ ایئر لائنز کے چارٹرڈ طیارے کے استعمال کی پیشکش کی تھی تاکہ ریاست کی خودمختاری کا بھی احترام برقرار رہے، مگر حوثیوں نے ان تمام انسانی اور قومی پیشکشوں کو ٹھکرا کر اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
العلیمی نے حوثیوں کو اس نئی کشیدگی اور یمنی خودمختاری کی سنگین پامالی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل تہران سے آنے والی ایک ایرانی "ماہان ایئر" پرواز کا صنعاء ایئرپورٹ پر اترنا یمنی حکومت کی نظر میں نہ صرف ایک "خطرناک پیش رفت" ہے بلکہ یہ یمنی خودمختاری پر ایک کھلم کھلا اور سفاکانہ حملہ ہے۔
-
شام: طویل عرصے کے بعد نومنتخب پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا انعقاد
شام کی نئی حکومت کے بعد بننے والی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس اتوار کے روز دمشق میں ...
مشرق وسطی -
صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے... یمنی وزیر دفاع نے ایران اور حوثیوں کو واضح کر دیا
یمن کے وزیر دفاع لیفٹننٹ جنرل طاہر العقیلی نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے ایک ٹیلی ...
مشرق وسطی -
آبنائے ہرمز میں کنٹینر جہاز پر حملہ، امدادی کارکنان عملے کے رکن کی تلاش میں مصروف
قبرص کی نائب وزارتِ نقل و حمل (ڈی ایم ایس) نے پیر کے روز بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز ...
مشرق وسطی