حوثیوں کی سفاکیت، ریڈ کراس کا طیارہ اور عملہ صنعاء میں یرغمال بنالیا: یمنی وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظالم حوثیوں نے صنعاء کے ہوائی اڈے پر ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ایک طیارے کو یرغمال بنا لیا ہے اور اسے پرواز کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ الاریانی نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ اور ان کے معاون کو حراست میں لے کر بطور یرغمال رکھا گیا ہے۔

اپنے ایک انتباہی پیغام میں الاریانی نے کہا کہ یہ اقدام ایک خطرناک چڑھائی اور بین الاقوامی انسانی قانون، روایات اور ان میثاقوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جو انسانی مشنوں اور ان کے کارکنوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس "مجرمانہ طرزِ عمل" کو حوثیوں کی قانونی اور انسانی معیارات سے عاری ہونے کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا اور الزام لگایا کہ ملیشیا انسانی اداروں اور ان کے کارکنوں کو سیاسی بلیک میلنگ اور دباؤ ڈالنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات نے ریڈ کراس، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس انسانیت سوز واقعے کی بھرپور مذمت کریں، طیارے اور اس کے عملے کی فوری رہائی کے لیے عملی اقدام اٹھائیں اور یمن میں انسانی امدادی کاموں کے خلاف ہونے والی اس سفاکیت کا خاتمہ کریں۔

خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی

دوسری جانب یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں حالیہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ حوثی ملیشیا امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور شہریوں کے مفادات کے تحفظ کی تمام تر کاوشوں کو مسترد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

العلیمی نے انتہائی دکھ اور غصے کے ساتھ کہا کہ تمام تر ثالثیوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود حوثی ملیشیا نے ایک نئی ایرانی پرواز کا استقبال کیا جو شہری ہوابازی کے قانونی اور خودمختاری کے اصولوں سے مکمل طور پر متصادم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یمنی حکومت نے اپنے قومی فضائی کیریئر "یمنیہ ایئر لائنز" کے ذریعے شہری پروازوں کی بحالی کی مکمل آمادگی ظاہر کی تھی، تاکہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہو اور ہوائی اڈے کا آپریشن بھی جاری رہے۔ انہوں نے ایران سے حوثی عناصر کی واپسی کے لیے بھی یمنیہ ایئر لائنز کے چارٹرڈ طیارے کے استعمال کی پیشکش کی تھی تاکہ ریاست کی خودمختاری کا بھی احترام برقرار رہے، مگر حوثیوں نے ان تمام انسانی اور قومی پیشکشوں کو ٹھکرا کر اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

العلیمی نے حوثیوں کو اس نئی کشیدگی اور یمنی خودمختاری کی سنگین پامالی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل تہران سے آنے والی ایک ایرانی "ماہان ایئر" پرواز کا صنعاء ایئرپورٹ پر اترنا یمنی حکومت کی نظر میں نہ صرف ایک "خطرناک پیش رفت" ہے بلکہ یہ یمنی خودمختاری پر ایک کھلم کھلا اور سفاکانہ حملہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں