صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے... یمنی وزیر دفاع نے ایران اور حوثیوں کو واضح کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یمن کے وزیر دفاع لیفٹننٹ جنرل طاہر العقیلی نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے ایک ٹیلی ویژن بیان میں اعلان کیا ہے کہ فوج ایران یا حوثی گروپ کی طرف سے یمنی فضائی حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے تمام سیاسی اور سفارتی ذرائع آزما چکی ہے۔

العقیلی نے کہا کہ یمنی حکومت نے "ہر ممکن کوشش" کی کہ ایران اور حوثیوں کو اس راستے پر واپس لایا جائے جسے انہوں نے "درست راستہ" قرار دیا، نیز یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو روکنے اور یمن کو علاقائی کشیدگی کے دائرے میں شامل نہ کرنے کے لیے کوششیں کیں، تاہم ان کاوشوں کے نتائج برآمد نہ ہوئے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ "صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے"۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی مسلح افواج کسی بھی نئی خلاف ورزی کا "مناسب انداز میں" جواب دیں گی اور وہ ملک کی خود مختاری کی مسلسل خلاف ورزی یا فضائی حدود کو کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

العقیلی نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسلح افواج یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دشمن طیاروں کا مقابلہ کریں گی اور ریاست کے اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حق کے تحت دستیاب تمام فوجی ذرائع سے ان کے ساتھ نمٹیں گی۔

بیان میں یمنی فضائی حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کی مکمل قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ایران پر عائد کی گئی۔ ساتھ یہ بھی مانا گیا کہ ایرانی مداخلت اور حوثیوں کی حمایت کا جاری رہنا یمن کی سلامتی کو کمزور کرتا ہے اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مسلح افواج ملک کی خود مختاری پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی حملے کے ساتھ نرمی نہیں برتیں گی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کے پاس عوام اور قیادت موجود ہے جو اس کا بری، بحری اور فضائی دفاع کرتے ہیں، خواہ نتائج کچھ بھی ہوں۔

یہ پیغام سرکاری موقف میں غیر معمولی سختی کی عکاسی کرتا ہے۔

العقیلی نے واضح کیا کہ مسلح افواج زمینی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ قومی سلامتی یا یمنی فضائی حدود کو ہدف بنانے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھتی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع فوجی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ اس میں ایرانی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے والے امریکی حملے، خطے کے متعدد ممالک پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل ہے۔

یہ بیان علاقائی تصادم کے دائرہ کار کے نئے میدانوں تک پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ظاہر کرتا ہے جبکہ خطے کے ممالک کی سرزمین اور فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں میں استعمال کرنے کے باہمی الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

یمنی مسلح افواج کا یہ بیان حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک کے سب سے سخت سرکاری بیانات میں سے ایک سمجھا جارہا ہے، کیونکہ یہ سیاسی حل کی اپیل سے ہٹ کر یمنی فضائی حدود کی کسی بھی نئی خلاف ورزی کے خلاف براہ راست فوجی اقدامات اٹھانے کی تیاری کے اعلان تک پہنچ گیا ہے۔

وزیر دفاع طاہر العقیلی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے دوران مسلح افواج نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کی خود مختاری کا تحفظ ایک ایسی ترجیح ہے جس میں کوتاہی نہیں برتی جا سکتی۔ ساتھ یہ تصدیق کی کہ افواج ملک کے دفاع میں اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گی اور فضائی حدود میں گھسنے یا خود مختاری کو ٹھیس پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا زمینی صورتحال کے مطابق مناسب جواب دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ایسی خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں