ایران آبنائے ہرمز کا محافظ تھا اور رہے گا: عباس عراقچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی حفاظت اور وہاں سے گذرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

عراقچی نے ’ایکس‘ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں لکھا کہ 20 فیصد کی شرح بہت زیادہ ہے اور تہران اس معاملے میں منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے وہ اس سروس کے بدلے معاوضہ لینے کا حق رکھتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا سمندری محاصرہ دوبارہ نافذ کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگائے گا، یہ فیصلہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اپریل میں نافذ جنگ بندی کے بعد ہونے والی شدید ترین جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ہم ایران پر محاصرہ دوبارہ نافذ کر رہے ہیں جو صرف ایرانی جہازوں کو داخل ہونے یا باہر نکلنے سے روکے گا جبکہ دیگر تمام ممالک آبنائے تک منصفانہ اور آزادانہ رسائی کے حقدار رہیں گے۔

پیر کی صبح صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ اس تزویراتی گذرگاہ پر کنٹرول حاصل کر رہا ہے اور اس کا محافظ بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب تک مفت میں آبنائے کا تحفظ کر رہا تھا لیکن اب وہ اس کا معاوضہ وصول کرے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے بحری راستے سے جانے والے سامان پر 20 فیصد ٹیکس عائد کریں گے۔

انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ امریکہ کو اب سے آبنائے ہرمز کے محافظوں کے طور پر جانا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کے پیشِ نظر وہ کارگو کی قیمت کا 20 فیصد وصول کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکس دنیا کے اس انتہائی ہنگامہ خیز خطے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے اخراجات کو پورا کرے گا اور یہ اقدام فوری طور پر نافذ ہوگا۔

ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے رویے پر بھی شکایت کی جو ہفتے کے آخر میں ہونے والی بات چیت کے بعد معاہدے میں تبدیلیاں لانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 11 گھنٹے کے طویل اجلاس میں ہر چیز طے ہو گئی تھی لیکن بعد میں ایرانیوں نے کچھ تبدیلیاں مانگ لیں۔

آبنائے ہرمز واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کا مرکزی نقطہ ہے جبکہ ایران اپنی اس گرفت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جو جنگ کے آغاز سے اس نے قائم کی تھی، جب اس نے ایندھن کی سپلائی کے لیے اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا تھا جس سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ ایران کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی نہیں رہے گی اور وہ جہازوں سے خدمات کے بدلے فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ امریکہ جہاز رانی کی آزادی پر زور دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں