فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص، اس کی بیوی اور ان کی چھے سالہ بیٹی ہلاک ہو گئی۔ اسی دوران امریکی ثالثی میں غزہ جنگ بندی معاہدے میں پیش رفت کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ وسطی غزہ کے دیر البلح میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت پر حملے میں عمر ابو قاسم، ان کی اہلیہ اسماء اور بیٹی حبیبہ ہلاک ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کا بیٹا بچ گیا لیکن وہ زخمی تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس حملے میں حماس کے ایک رکن کو نشانہ بنایا گیا۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جنگ بندی ناکام ہو گئی
تازہ ترین تشدد اس وقت ہوا جب حماس کے رہنماؤں نے منگل کو قاہرہ میں جنگ بندی مذاکرات کا ایک اور دور مکمل کر لیا۔ مصر، ترکی اور قطر کی ثالثی میں ان مذاکرات کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کرنا تھا۔
قریبی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان گہری عدم اعتماد کے باعث بہت کم پیش رفت ہوئی۔
امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں امریکی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کو حماس سے اقتدار منتقل کر کے خود سنبھالنے کی اجازت دینا، بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور جنگ سے تباہ شدہ غزہ کی تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہیں۔
پانچ ممالک - انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ - نے امریکی حمایت یافتہ بین الاقوامی استحکام فورس کو فوجی فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم کسی کو تاحال تعینات نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس اور حماس کے درمیان مذاکرات مہینوں سے تعطل کا شکار ہیں۔
پیر کو برسلز میں عطیہ دہندگان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ بورڈ آف پیس کے ایلچی نکولے ملاڈینوف نے کہا، میں منگل کو مراکش کا دورہ کروں گا تاکہ "بین الاقوامی استحکام فورس میں مراکش کے تعاون پر دستخط کیے جائیں اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ہم انہیں زمین پر کام کرتے ہوئے دیکھیں گے۔"
ملاڈینوف نے کہا، اکتوبر کی جنگ بندی برقرار ہے لیکن "نامکمل" حالت میں کیونکہ خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ نیز کہا کہ حماس نے تاحال اس بات سے اتفاق نہیں کیا جسے وہ مذاکرات کا "لائحہ عمل" کہتے ہیں۔
حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے ملاڈینوف پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات میں اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور ٹرمپ منصوبے کے پہلے مرحلے کی شرائط برقرار نہ رکھنے پر اس سے جواب طلبی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اس منصوبے میں اسرائیلی افواج سے ایک حد بندی شدہ "زرد" لکیر پر واپس چلے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی افواج کو آگے بڑھا رہا ہے اور اب مؤثر طریقے سے 60 فیصد سے زیادہ پٹی پر قابض ہے۔
حماس نے بارہا کہا ہے کہ جب تک پہلے مرحلے کی شرائط پوری نہ ہو جائیں، وہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت نہیں کر سکتی۔
-
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار کاحماس پرغزہ میں امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرنے کاالزام
بعض حصوں پر حماس کا بدستور کنٹرول ہے
بين الاقوامى -
اسرائیلی فائرنگ سے غزہ میں 10 سالہ بچے سمیت نو افراد جان سے گئے
غزہ کے محکمہ صحت اور پولیس حکام نے بتایا کہ منگل کو غزہ کی پٹی میں ایک اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
فضائی حملے میں حماس تنظیم کی ایلیٹ یونٹ کے دو کمانڈروں کو ہلاک کر دیا : اسرائیلی فوج
دیر البلح میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان ...
بين الاقوامى