امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور ان کے اسرائیلی ہم منصب یسرائیل کاٹز نے ایران میں جاری فوجی کارروائی سے متعلق تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یسرائیل کاٹز نے ٹیلیفون پر پیٹ ہیگستھ سے گفتگو کی، جس کے دوران امریکی وزیرِ دفاع نے انہیں ایران میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔
دونوں وزراء نے خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں دوطرفہ تعاون اور رابطہ مزید مضبوط رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
بیان کے مطابق یسرائیل کاٹز نے گفتگو کے دوران شام، غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی جاری کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا۔
اسرائیلی بیان میں ان کارروائیوں کا ہدف ''جہادی دہشت گرد عناصر'''کو قرار دیا گیا، جبکہ کاٹز نے کہا کہ اسرائیل مختلف محاذوں پر اپنی سکیورٹی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔
سکیورٹی زونز میں موجودگی برقرار رہے گی
اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام، لبنان اور غزہ میں قائم سکیورٹی زونز میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔
ان کے بقول یہ موجودگی اسرائیلی سرحدوں اور ان سے ملحقہ بستیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، تاکہ 7 اکتوبر 2023 جیسے حملے کی دوبارہ نوبت نہ آئے۔
کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل نے کبھی بھی امریکہ سے اپنی سرحدوں کے دفاع کی درخواست نہیں کی۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنے شہریوں کو درپیش کسی بھی خطرے کا خود مقابلہ کرنے کا پابند ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔
امریکی اور اسرائیلی وزرائے دفاع کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں فوجی تناؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مختلف محاذوں پر جاری فوجی کارروائیاں بھی وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات کو بڑھا رہی ہیں۔
یہ رابطہ ایران اور دیگر علاقائی معاملات، خصوصاً موجودہ کشیدگی کے سکیورٹی اثرات کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جاری فوجی اور سیاسی ہم آہنگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔