اسرائیلی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایک بار پھر نیتن یاہو اور ان کے مذہبی انتہا پسند ووٹروں کو جھٹکا دیتے ہوئے اس امتیازی قانون کو معطل کر دیا ہے، جسے اسرائیلی کنیسٹ نے منگل کے روز منظور کیا تھا۔ نیتن یاہو اور ان کے اتہا پسند یہودی اراکین پارلیمنٹ نے عجلت میں یہ قانون منطور کیا تھا کہ کسی بھی انتہا پسند مذہبی یہودی کو لازمی فوجی بھرتی کے قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔
نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے ملک کی سیاسی و انتخابی صوت حال میں اپنے لیے پائی جانے والی بے یقینی کے پیش نظر ایسا کیا تھا۔ تاکہ اگلی پارلیمنٹ کے اکتوبر میں انتخاب سے پہلے اطیمنان کر لیا جائے کہ ان کے لاکھوں ووٹرز کو فوجی خدمات دینے سے انکار کے باوجود گرفتاری کا خطرہ نہ رہے۔
لیکن منگل کے روز اس قانون کی منظوری دی گئی اور بدھ کے روز سپریم کورٹ نے اس قانون کو معطل کر دیا۔ نیا قانون یہ بنایا گیا تھا کہ اگرکوئی مذہبی یہودی فوجی بھرتی سے انکاری ہوگا تو اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی ریاست کا دلچسپ پہلو ہے کہ جو مذہبی اور کٹر قسم کے یہودی مسلمانوں کے خلاف ہمہ وقت اسرائیلی عوام کی ذہن سازی کرتے رہتے ہیں۔ وہ اسرائیل کی مسلمانوں کے خلاف جنگوں کے سب سے زیادہ حامی ہوتے ہیں مگر اپنے بچوں کو جنگ میں یہ کہہ کر نہیں بھیجتے کہ وہ یہودی مذہب کی تعلیمات حاصل اور عام کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے ان کٹر مذہبی یہودیوں کے لیے فوجی بھرتی سے استثنا کو ختم کر دیا تھا۔ فوج میں جا کر لڑنے مرنے کے لیے اپنے بچوں اور اپنی جانیں پیش کرنے سے بھاگنے والے ان یہودیوں کی آبادی اب 13 فیصد تک ہو گئی ہے۔
انہی کی سہولت کی خاطر کنیسٹ نے منگل کے روز قانون منظور کیا تھا۔ مگراپوزیشن لیڈروں یائر لاپیڈ اور لائبر مین نے اس امتیازی قانون کی منظوری کو عدالت میں چیلنج کر دیا ۔ جس پر بدھ کے روز ہی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا کر قانون کو معطل کر دیا ہے۔
تاہم عدالت نے اپنے حکم نامے میں نئے بنائے گئے قانون کے بارے میں لکھا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کی درخواست پر تفصیلی سماعتیں کی جائیں گی۔ پارلیمنٹ نے منگل کے روز منظور کیے گئے قانون میں تحریر کیا تھا کہ مذہبی تحریروں کا مطالعہ اسرائیل کی بنیادی اقدارمیں سے ہے۔
مبصرین کےمطابق اس سے لگتا ہے ہے کہ اس اہم اسرائیلی قدر کا تحفظ کرنے والے کو یہ کام کرنے دیا جائے، انہیں اس سے ہٹا کر فوج میں جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اسی کو اپوزیشن رہنماؤں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔