سابق اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرزمین کے اندر جس علاقے پر فی الحال اسرائیل کا کنٹرول ہے، وہ جنوبی لبنان میں سکیورٹی بیلٹ کے تجربے کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بفر زون جسے حکومت ایک سکیورٹی کامیابی قرار دیتی ہے، ایک ایسی حکمت عملی کا اعادہ ہو سکتا ہے جس کی ناکامی ثابت ہو چکی ہے۔
"رائٹرز" کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سابق فوجی، جو اپنے ذہنوں میں تین یا چار دہائیاں پیچھے چلے جاتے ہیں، جنوبی لبنان میں ایک تھکا دینے والے نظام کا خاکہ کھینچتے ہیں جس میں بارودی مواد کو ہٹانا، گھات لگانا اور اسرائیلی قبضے کے دوران گوریلا جنگ کے طریقہ کار میں مہارت رکھنے والے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں شامل تھیں۔
ماضی کی غلطیاں
اسرائیل 2000 میں "سکیورٹی بیلٹ" سے دستبردار ہو گیا تھا لیکن حزب اللہ کے ساتھ جاری جھڑپوں کے سائے میں وہ اب جنوبی لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی تک ایک پٹی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے واپس آ گیا ہے۔ اسرائیل نے مارچ سے اب تک درجنوں فوجی کھو دیے ہیں۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے ایک ایسی جارحیت شروع کی جس کے نتیجے میں لبنان میں دس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے اور سیکڑوں شہریوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ اپنے جاں بحق ہونے والے ارکان کی تعداد ظاہر نہیں کر رہا۔ سابق اسرائیلی فوجی گل شیلی ، جنہوں نے اسی کی دہائی کے اواخر میں "سکیورٹی بیلٹ" میں خدمات انجام دیں، یاد کرتے ہیں کہ ان کے کمانڈر روزانہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ان کی موجودگی شمالی اسرائیل کی حفاظت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سب باتیں محض افسانے تھیں۔
56 سالہ سابق اسرائیلی فوجی، جن کا چھوٹا بیٹا جلد ہی لازمی فوجی سروس کے تحت اسرائیلی فوج میں شامل ہونے والا ہے، نے مزید کہا کہ جب میں وہاں کسی فوجی کی ہلاکت کی خبر سنتا ہوں تو مجھے شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ اس غیر ضروری قربانی پر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دوسری طرف 51 سالہ ایریز، جنہوں نے نوے کی دہائی میں وہاں خدمات انجام دیں اور پرائیویسی وجوہات کی بنا پر صرف اپنا پہلا نام استعمال کرنے کی درخواست کی، نے کہا کہ میں نے لبنان میں اپنے بہت سے دوستوں کو کھو دیا ہے۔ ان کا بیٹا اس وقت نئے بفر زون میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کر رہے تھے کہ ہمیں کبھی واپس نہیں جانا پڑے گا۔
لبنان کے ساتھ امن چاہتے
واضح رہے سال 2000 میں اسرائیل کے انخلا سے قبل ایک عوامی اسرائیلی مہم چلائی گئی تھی جو انسانی نقصانات میں اضافے کے ساتھ تیز ہو گئی تھی اور اس میں نمایاں آوازیں ہلاک ہونے والے اور تاحال ڈیوٹی پر مامور فوجیوں کی ماؤں کی تھیں۔ انہوں نے "چار مائیں ۔ لبنان کو امن میں چھوڑ دو" نامی تحریک تشکیل دی تھی۔
تحریک کی شریک بانی اور صدر، راشیل مادبیس بن-ڈور نے کہا ہے کہ اس وقت وہ ہمارے بچے تھے اور اب وہ ہمارے پوتے نواسے ہیں، ہم اس وقت بھی وہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ شمال کی رہائشی راشیل نے بتایا کہ فوجی سرحد سے ہی ان کے قصبے کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم دیہاتوں کو تباہ ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، ہم لبنان کے ساتھ امن چاہتے ہیں اور ہمیں دنیا کی حمایت کی ضرورت ہے۔ لیکن سابق اسرائیلی وزیر دفاع، بینی گانٹز، جو 2000 میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور جنہوں نے پسپا ہونے والی اسرائیلی افواج کے پیچھے سرحدی باڑ کا دروازہ بند کیا تھا، نے کہا کہ اسرائیل سادگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا حال ہی میں لبنان میں فرنٹ لائن پر تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس بفر زون قائم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، ہم حقیقت کو اس طرح نہیں دیکھ سکتے جیسا ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں حقیقت کو اسی طرح دیکھنا ہوگا جیسی وہ ہے اور اسے سنوارنے کی کوشش کرنی ہوگی، ہمارا دیکھنا فوجی، سکیورٹی اور سفارتی ذرائع کے امتزاج سے ہونا چاہیے۔ بینی گانٹز نے مزید کہا کہ اگر واقعی معاہدے پر عمل درآمد ممکن ہو گیا تو ہم اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آئیں گے۔
بفر زون کا تنازع
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے 30 جون کو فوجیوں کے دورے کے دوران بفر زون کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ اسرائیلی ریزرو فورسز کا ایک رضا کار اس مہینے جنوبی لبنان واپس آیا ہے جس نے 2000 کے انخلا سے کچھ عرصہ قبل وہاں ایک نوجوان رنگروٹ کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ رائٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس ریزرو فوجی نے کہا کہ اس وقت سے اب تک حزب اللہ کی جانب سے ہتھیاروں کی مقدار اور بنیادی سرگرمیوں کا دائرہ کار تشویشناک ہے لیکن صرف فوجی کارروائی ہی آخر کار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقصد کیا ہے؟ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ لڑ رہے ہیں اور اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں، معاملہ واضح نہیں ہے اور وہ فوجیوں کو اس کی وضاحت نہیں کر رہے ہیں۔ یہ مبہم اور مایوس کن ہے۔ اطالوی دارالحکومت لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کے چھٹے دور کی میزبانی کر رہا ہے جس کے پہلے دن کی بات چیت کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ روم میں بدھ کو ان مذاکرات کا دوسرا دن تھا جو امریکی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل واشنگٹن میں پانچ دور منعقد ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں "فریم ورک فارمولے" پر دستخط ہوئے تھے۔
گزشتہ 26 جون کو واشنگٹن میں ہونے والے ایک اجلاس کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں لبنان میں تنازع کے خاتمے، حزب اللہ جیسے مسلح گروپوں کے غیر مسلح ہونے، جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن اسرائیلی حملے نہیں رکے اور حزب اللہ نے معاہدے کے ساتھ ساتھ اپنے ہتھیار ڈالنے کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ جب تک "حزب اللہ" کے ہتھیار نہیں چھین لیے جاتے، اس کی افواج جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی۔