.

پاکستان 1971ء کی جنگ کے جرائم پر معافی مانگے بنگلہ دیش

ماضی میں مختلف شکلوں میں معافی مانگ چکے:حنا کھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بنگلہ دیش کی وزیر خارجہ نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے 1971ء کی جنگ میں فوج کے مبینہ جنگی جرائم پر معافی کا مطالبہ داغ دیا ہے۔

بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ امرؤالقیس نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ دیپو مونی نے ڈھاکا میں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقات میں فوج کی جانب سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ''وزیر خارجہ نے 1971ء کی جنگ کا ایشو اٹھایا ہے اور توقع ہے کہ پاکستان ایک مرحلے پر اس معاملے پر معافی مانگے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''دونوں حکومتوں کے درمیان ابھی بعض تصفیہ طلب امور موجود ہیں اور وزیر خارجہ کو توقع ہے کہ پاکستان ان امور کو طے کرنے کے لیے آگے بڑھے گا''۔

مسٹر امرؤالقیس کے بہ قول ''پاکستانی وزیر خارجہ نے ملاقات میں کہا کہ وہ ماضی میں مختلف شکلوں میں معذرت کر چکے ہیں اور اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے''۔

پاکستانی وزیر خارجہ چھے گھنٹے کے مختصر دورے پر جمعہ کو ڈھاکا پہنچی تھیں اور ان کی آمد کا مقصد بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 22 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینا تھا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے بانی قرار دیے جانے والے لیڈر مقتول شیخ مجیب الرحمان کی جماعت اور ملک کی موجودہ حکمران عوامی لیگ اور اس کے حامی 1971ء کی جنگ کی اپنے انداز میں تعبیر و تشریح کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ اس کو آزادی کی جنگ قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستان اور اس کے حامی طبقے اس جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کو اور طرح سے بیان کرتے ہیں اور وہ عوامی لیگیوں کو بھی جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کا برابر کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاک آرمی کے علاوہ عوامی لیگ کے تحت مکتی باہنی اور اس جیسی دوسری تنظیموں نے بھی بھارت کی فوجی مدد اور تعاون سے مقامی لوگوں اور متحدہ پاکستان کے حامیوں کا قتل عام کیا تھا لیکن عوامی لیگ کی حکومت ان میں سے زندہ موجود لوگوں کے خلاف تو کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر رہی ہے بلکہ اس کے بجائے وہ پاکستان سے معافی کا مطالبہ کر رہی ہے اور متحدہ پاکستان کے حامیوں اور مشرقی پاکستان کی تقسیم کے مخالفین کے خلاف بیالیس سال کے بعد خصوصی عدالتیں قائم کر کے مقدمات چلا رہی ہے۔

عوامی لیگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ 1971ء کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج اور اس کی حامی مقامی تنظیموں نے تیس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا تھا لیکن آزاد اور غیر جانبدار مورخین ہلاکتوں کے ان اعداد وشمار تسلیم نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کے لیڈر سقوط مشرقی پاکستان کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں اور وہ اس جنگ میں بھارت اور دوسری غیر ملکی طاقتوں کے مکروہ کردار کو یا تو بالکل گول کر جاتے ہیں یا پھر اس کو معروضی انداز میں پیش کرنے سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے وقت زمینی حقائق ان کے یک طرفہ موقف کی تائید نہیں کرتے ہیں۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے سن 2010ء میں 1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام کے مخالفین اور پاکستان کے حامیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے ایک خصوصی ٹرائبیونل قائم کیا تھا اور یہ اب تک حزب اختلاف کی تین سرکردہ شخصیات پر فرد جرم عاید کر چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی اس خصوصی عدالت نے چند ماہ قبل جماعت اسلامی کے سابق سربراہ پروفیسر غلام اعظم پر 1971ء کی جنگ کے دوران نسل کشی، انسانیت مخالف جرائم اور قتل کے الزامات میں فرد جرم عاید کی تھی۔

نواسی سالہ پروفیسر غلام اعظم پر جنگ کے دوران اپنی قیادت میں پاکستان کی حامی ملیشیائیں تشکیل دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اس خصوصی عدالت کو ''شو ٹرائل'' قرار دے کر مسترد کر چکی ہیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس ٹرائبیونل میں مقدمے کی سماعت کے لیے اختیار کردہ طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔