عائشہ فاروق پاکستان کی پہلی لڑاکا خاتون ہواباز بن گئیں

ائر فورس میں شمولیت پر والدہ کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

پاکستان صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع بہاولپورکی 26 سالہ باہمت دوشیزہ عائشہ فاروق نے ملکی دفاع کیلئے پاک فضائیہ کی پہلی خاتون لڑاکا پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ عائشہ کے علاوہ پانچ دوسری لڑاکا خواتین ہواباز بھی ہیں تاہم انہوں نے ابھی جنگی مہارت کا ٹیسٹ پاس کرنا ہے۔

عائشہ گزشتہ دہائی میں فضائیہ کی پائلٹ بننے والی 25 خواتین میں شامل ہیں لیکن لڑنے کی صلاحیت کے آخری ٹیسٹ بھی پاس کرکے پہلی خاتون لڑاکا پائلٹ بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ فضائیہ میں شمولیت پر خوش ہیں اور مرد ساتھیوں کیساتھ کام میں کوئی مشکل یا پریشانی نہیں، ہم بھی انکی طرح بم برسا سکتی ہیں۔

عائشہ فاروق کا کہن تھا کہ دہشت گردی اور ملک کی جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر ملکی دفاع کیلئے ہر وقت تیار رہنا ضروری ہے۔ عائشہ ان دنوں وسطی پنجاب کے ضلع سرگودھا کے مصحف ایئر بیس میں تعینات اور چینی ساختہ F-7PG جیٹ فائٹراڑاتی ہیں۔

سات سال قبل پائلٹ بننے کے فیصلے پر انہیں اپنی ناخواندہ بیوہ والدہ کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پاک افواج میں 4 ہزار کے قریب خواتین فرائض انجام دے رہی ہیں۔ فضائیہ میں اس وقت 316 خواتین اہلکارمختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں جبکہ 5 سال قبل یہ تعداد صرف ایک سو تھی۔

عائشہ فاروق: پاکستان کی پہلی لڑاکا خاتون ہواباز

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں