.

امریکا کے ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کے سنیئر کمانڈر سمیت 6 جنگجو جاں بحق

ملاّ سنگین زدران کی ہلاکت کی تصدیق، پاکستان کے دفتر خارجہ نے ڈرون حملے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل میں حقانی نیٹ ورک کے ایک سنیئر کمانڈر ملاّ سنگین زدران سمیت چھے جنگجو مارے گئے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے علاقے درگاہ منڈی میں ایک مکان پر دو میزائل فائر کیے تھے۔ یہ علاقہ حقانی نیٹ ورک کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ حملے میں ملاّ سنگین زدران اور پانچ دیگر جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔مقتول ملا افغانستان کے مشرقی صوبہ پکتیکا کے شیڈو گورنر سمجھے جاتے تھے

انٹیلی جنس حکام کے مطابق اس ڈرون حملے میں مرنے والوں میں تین غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ ان کے نام زبیر مزی، محمد ابو بلال الخراسانی اور ابو دجانہ الخراسانی بتائے گئے ہیں۔ موخرالذکر کا تعلق اردن سے تھا۔ حملے میں چار جنگجو زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حملے میں جاں بحق جنگجوؤں کی نمازجنازہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے تبلیغی مرکز میں جمعہ کی سہ پہر تین بجے ادا کی گئی ہے اور ان کے جنازے کے مساجد میں لاوڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا نے سنہ 2001ء میں ملاسنگین کو غیر ملکی دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ اقوام متحدہ نے بھی انھیں دہشت گرد قرار دے رکھا تھا اور امریکا ہی نے بزرگ افغان کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کے پیروکاروں اور ان سے وابستہ جنگجو گروپ کو حقانی نیٹ ورک کا نام دے رکھا ہے اور اس کے القاعدہ سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ وگرنہ حقانی اپنے طور پر خود کو یہ نام نہیں دیتے ہیں.

اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی سی آئی اے کے اس ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملے بین الریاستی تعلقات میں ایک خطرناک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان میں ڈرون حملوں کو ملک کی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کے منافی قراردیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزاحمت کاروں کو شکست دینے کے لیے یہ حملے ناگزیر ہیں۔ امریکی ان حملوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بڑا ہتھیار بھی قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان میں زیادہ تر عام شہری، بچے، بوڑھے اور خواتین ہی ماری گئی ہیں۔