طالبان میں باہمی خونریزی،حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تاخیر

''ہمارے فدائین آپ کے ٹینکوں کے مقابلے کے لیے تیار ہیں'': ملا فضل اللہ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظامی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں برسرپیکارکالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے دو دھڑوں کے درمیان مارچ سے لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں طرفین کے نوے جنگجو مارے جاچکے ہیں۔اس لڑائی کی وجہ سے ٹی ٹی پی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔

طالبان جنگجوؤں کے درمیان اس خونریزی کے باوجود ٹی ٹی پی کے روپوش امیر ملاّ فضل اللہ المعروف ملاّ ریڈیو نے ایک ویڈیو فرمان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک میں شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ملاّ صاحب نے متحارب جنگجو دھڑوں کے درمیان لڑائی بند کرانے کے لیے ایک ثالث مقرر کیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''باہمی لڑائی کے پیش نظر طالبان کی قیادت نے فی الحال امن مذاکرات موخر کردیے ہیں''۔شمال مغربی پہاڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالبان کمانڈر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متحارب گروپوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے تک امن مذاکرات روک دیے گئے ہیں۔

شورش زدہ جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کی کمان کے معاملے پر کمانڈر شہریار محسود اور کمانڈر خان سید سجنا کے حامیوں کے درمیان مارچ سے لڑائی جاری ہے۔محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے شہریار محسود کے گروپ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں چونکہ ان کی اکثریت ہے ،اس لیے انھیں ہی وہاں قیادت کا حق حاصل ہے لیکن ان کا مخالف سجنا گروپ ان کی عمل داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

طالبان کے کمانڈر کا کہناہے کہ ''سجنا اور شہریار گروپوں کے درمیان اختلافات کا مطلب محسود قبیلے میں اختلاف ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ طالبان کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا''۔شہریار محسود خود کو ٹی ٹی پی کے امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے امیر حکیم اللہ محسود کا جانشین قراردیتے ہیں۔

دریں اثناء ٹی ٹی پی کے سربراہ فضل اللہ کی ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔اس میں وہ ایک پہاڑی علاقے میں قائم تربیتی کیمپ میں بیس پچیس مسلح جنگجوؤں کے ساتھ نمودار ہورہے ہیں۔وہ اپنے جنگجوؤں سے یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ ''پاکستان میں شریعت کے نفاذ تک ہمارا جہاد جاری رہے گا یا پھر ہم شہادت کے مرتبے پر فائز ہوجائیں گے''۔

ملا فضل اللہ کے بارے میں خِیال کیا جاتا ہے کہ وہ پڑوسی ملک افغانستان میں کہیں روپوش ہیں۔وہ جس کو اپنا جہاد قراردے رہے ہیں،اس کے تحت ان کے جنگجو پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں بم دھماکے اور حملے کرکے بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو موت کی نیند سلا رہے ہیں۔

انھوں نے اس ویڈیو میں یہ بھی کہا ہے کہ ''ہم آرہے ہیں اور ہمارے فدائین آپ کے ٹینکوں سے لڑائی کے لیے تیار ہیں''۔ادھر وادیِ سوات میں حکومت کی نگرانی میں قائم کی جانے والی امن کمیٹیوں کے ارکان کو ایسے خطوط بھیجے گئے ہیں جن میں انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور طالبان کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان فروری میں امن عمل کا سلسلہ شروع ہوا تھا تاکہ ملک میں گذشتہ سات سال سے جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جاسکے لیکن اب ان مذاکرات میں طالبان کی باہمی لڑائی کی وجہ سے مسلسل تاخیر ہورہی ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے گذشتہ جمعہ کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آیندہ دور کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے اور وہ ملک میں امن کی بحالی کے لیے وسیع تر ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکراتی عمل میں تاخیر کی ذمے دار نہیں ہے کیونکہ گذشتہ دو ادوار میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ طالبان اگلے دور کی تاریخ اور جگہ کا تعین کرکے بتائیں گے۔چودھری نثار علی خان کے اس بیان کے برعکس طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کا عمل فی الوقت تعطل کا شکار ہے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ بعض طاقت ور عناصر امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کی راہ ہموار کی جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں