.

پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے ہی فیصلے پر عمل 15 دن کے لیے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک اعلی عدالت سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ "ای سی ایل" سے نام نکالنے کے حوالے سے درخواست مشروط طور پر منظور کر لی ہے

سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہنواز طارق نے مختصر تحریری فیصلے میں حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ہو گی تاہم وہ اس اجازت سے فوری طور پر استفادہ نہیں کر سکیں گے۔

انہیں اس عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت یا دوسرے فریقین کی طرف سے پندرہ دن تک اپیل کے حق کا انتظار کرنا ہو گا۔ یہ اپیل حکومت یا کوئی دوسرا فریق سپریم کورٹ میں دائر کر سکے گا۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز اس اہم درخواست کی سماعت ہوئی تو حکومتی وکیل یا نمائندہ عدالت میں موجود نہ تھا۔ البتہ پرویز مشرف کے وکلا بیرسٹر فروغ نسیم کی زیر قیادت موجود تھی۔

واضح رہے پرویز مشروف جن پر مبینہ غداری کے مقدمے کے علاوہ ملک کی مختلف عدالتوں کئی دوسرے مقدمات بھی ان دنوں زیر سماعت ہیں، کا نام سپریم کورٹ کے 8 اپریل 2013 کو دیے گئے ایک بالواسطہ حکم کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے حکم پرعمل در آمد کیلیے کسی حکومتی ادارے اور حکومت کی اجازت ضروری نہیں ہو گی۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں غداری کیس کو دیکھنے والی خصوصی عدالت کے 31 مارچ 2014 کے ریمارکس کا حوالہ بھی دیا جس میں خصوصی عدالت نے کہ تھا'' پرویز مشرف جہاں چاہے آ جا سکتے ہیں۔''

تاہم سندھ حکومت نے خود ہی اپنے آج کے حکم پر عمل درآمد کو 15 دنوں کے لیے موخر کر دیا ہے تاکہ وفاقی حکومت چاہے تو سپریم کورٹ میں اس بارے میں اپیل دائر کر لے۔

خیال رہے پرویز مشرف نے اپنی والدہ کی عیادت اور اپنے علاج کے لیے ملک سے باہر جانے اجازت مانگی تھی۔ جس کا حتمی فیصلہ ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں ہونے کا امکان ہے بشرطیکہ وفاقی حکومت اپیل دائر کرتی ہے۔

دریں اثناء ایک اور عدالت نے غازی عبدالرشید قتل کیس کے سلسلے میں سابق صدر کی استثنا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں یکم جولائی کو طلب کر لیا ہے۔