نوبیل انعام کے بعد ملالہ کے لیے لبرٹی میڈل

ملالہ نے گذشتہ برس یورپی یونین کا سخاروف ایوارڈ جیتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو ایک اور اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس مرتبہ انہیں لبرٹی میڈل دیا گیا ہے اور انہوں نے اس ایوارڈ کی نقد رقم اپنے آبائی وطن پاکستان میں تعلیم کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملالہ یوسفزئی کو دیا جانے والا لبرٹی میڈل امریکا میں نیشنل کانسٹیٹیوشن سینٹر (این سی سی)کا سالانہ انعام ہے۔ این سی سی کے مطابق انہیں یہ اعزاز مصیبت کے سامنے حوصلے اور پھر سے اٹھ کھڑے ہونے کی طاقت کے لیے دیا گیا ہے جس کی بدولت وہ ان لوگوں کے لیے ایک طاقتور آواز بن کر ابھریں جنہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

این سی سی کے چیئرمین جیب بش کا کہنا تھا: ’’مساوات اور جبر سے آزادی کے لیے ملالہ کی جرأت مندانہ لڑائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک پرجوش، اپنے مقصد سے سچا رہنما، قطع نظر اس کی عمر کے ایک ایسی طاقت رکھتا ہے جو اصلاحات کے لیے ایک تحریک کو جنم دے سکے۔‘‘

سترہ سالہ ملالہ نے یہ انعام ملنے پر ایک تقریر میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ تعلیم سے محروم ستاون ملین بچوں کو اسکولوں میں جاتے دیکھنا چاہتی ہیں۔ ابھی دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ ملالہ نے نے بھارتی شہری کیلاش ستیارتی کے ساتھ شراکت میں نوبل امن انعام جیتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے منگل کو لبرٹی میڈل ملنے کے بعد کہا: ’’یہ میڈل میرے لیے بہت ہی اعزاز کی بات ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’اس سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ میں تعلیم کے لیے اپنی مہم اور ہر بچے کے حق کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھوں۔‘‘ اس موقع پر ملالہ نے اعلان کیا ہے کہ لبرٹی میڈل کے ساتھ ملنے والی ایک لاکھ ڈالر کی رقم پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے خرچ کی جائے گی۔

انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ ہتھیاروں پر پیسہ خرچ کرنا بند کیا جائے اور اس کے بجائے بچوں کے مستقبل پر توجہ دی جائے۔ ملالہ نے کہا: ’’تعلیم ایک بہترین ہتھیار ہے جس کے ذریعے ہم غربت، جہالت اور دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا میں دنیا بھر میں تمام ملکوں سے کہتی ہوں، آئیے جنگوں کے لیے نہ کہہ دیں۔‘‘

ملالہ یوسف زئی برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ پاکستان میں لڑکیوں کے تعلیم کے حق کے لیے مہم چلانے پر منظرِ عام پر آئی تھیں۔ اکتوبر 2012ء میں طالبان کے ایک حملہ آور نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھیں۔ تاہم شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ بچ گئیں۔ اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں متعدد لوگ ملالہ کو شکوک و شبہات اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں