پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں تاریخی جیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں تاریخی شکست سے دوچار کیا ہے اور بیس سال کے بعد سیریز دو صفر سے اپنے نام کرلی ہے۔

ابو ظبی کے شیخ زاید انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم نے ہرشعبے میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور آسٹریلوی ٹیم کو 356 رنز سے ہرایا ہے۔اس جیت کے بعد پاکستانی ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی نئی ٹیسٹ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر آگئی ہے۔جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا بدستور پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔

پاکستانی کھلاڑیوں نے پہلے ٹیسٹ کی طرح دوسرے میچ میں بھی بلے بازی اور باؤلنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور پانچ دن کے کھیل کے دوران کسی ایک مرحلے پر بھی آسٹریلوی ٹیم کو حاوی نہیں ہونے دیا ہے۔

پاکستانی ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی۔اس نے پہلی اننگز میں چھے وکٹ کے نقصان پر 570 رنز بنائے تھے اور اننگز ڈکلئیر کردی تھی۔اس میں تجربے کار بلے باز یونس خان کی ڈبل سنچری، کپتان مصباح الحق اور اظہرعلی کی سنچریاں شامل تھیں۔آسٹریلوی ٹیم جواب میں اپنی پہلی اننگز میں 261 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی اور اس طرح پاکستان کو پہلی اننگز میں 309 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔

پاکستانی ٹیم نے اپنی دوسری اننگز 293 رنز پر ڈکلئیر کردی تھی اور اس کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔اس طرح نے اس نے آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 603 رنز کا بھاری ہدف دیا تھا لیکن تمام آسٹریلوی بلے باز سوموار کو میچ کے پانچویں روز 246 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔پاکستانی اسپنر ذوالفقار بابر نے 120 رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔یاسر شاہ نے 44 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔محمد حفیظ نے دو آسٹریلوی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی ہے۔

اس ٹیسٹ میچ میں متعدد نئے ریکارڈز بنے ہیں اور پرانے ٹوٹے ہیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے دونوں اننگز میں سینچریاں اسکور کی ہیں۔انھوں نے میچ کی دوسری اننگز میں جارحانہ بلے بازی کی اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین نصف سینچری بنائی۔انھوں نے 21 گیندوں پر 50 رنز بنائے اور اس طرح جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ژاک کیلس کا 24 گیندوں پر 50 رنز بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا۔

مصباح الحق نے اس کے بعد 56 گیندوں پر سو رنز بناکر ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ویون رچرڈز کا تیز ترین سینچری بنانے کا ریکارڈ بھی برابر کردیا۔انھیں اس شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا ہے۔انھوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے دو سابق کپتانوں عمران خان اور جاوید میاں داد کا بطور کپتان چودہ، چودہ ٹیسٹ میچ جیتنے کا ریکارڈ بھی برابر کردیا ہے۔

پاکستان کے اسٹار بلے باز یونس خان کو ٹیسٹ سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔انھوں نے پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سینچریاں اسکور کی تھیں اور دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلے اننگز میں 213 رنز بنائے اور دوسری اننگز میں 46 رنز بنائے تھے۔

پاکستان نے دبئی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو 221 رنز سے شکست دی تھی اور دوسرے ٹیسٹ میچ میں 356 رنز ہرایا ہے ۔اس طرح اس نے 1994ء کے بعد پہلی مرتبہ آسٹریلوی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دوچار کیا ہے۔آسٹریلیا کو اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں تیسری مرتبہ اتنے بھاری فرق سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آسٹریلوی ٹیم کو 1928ء میں برسبین میں برطانیہ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں 675 رنز سے بدترین شکست ہوئی تھی اور 1980ء میں ایڈی لیڈ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے اس کو 408 رنز سے ہرایا تھا۔ پاکستان کی بھی یہ رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی فتح ہے۔اس سے پہلے اس نے 2006ء میں کراچی میں بھارت کی کرکٹ ٹیم کو 341 رنز سے شکست دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں