.

چین اور پاکستان کے درمیان 51 سمجھوتوں پر دستخط

چینی صدر کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کے اصلاحاتی ایجنڈے کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور چین کے درمیان اکنامک کوریڈور (اقتصادی راہ داری) سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون سے متعلق اکاون سمجھوتے طے پا گئے ہیں۔

مفاہمت کی ان یادداشتوں (سمجھوتوں) پر دستخط کی پُروقار تاریخی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی۔اس میں چینی صدر شی جین پنگ اور پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف موجود تھے۔دونوں ممالک کے وزراء اور اعلیٰ عہدے داروں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔

اس موقع پر میاں نواز شریف نے چینی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے چین کو پاکستان کا تمام موسموں کا دوست قرار دیا اور کہا کہ ''دونوں ممالک میں بہت سی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔علاقائی اور عالمی سطح پر بڑی پیش رفت ہوچکی ہے لیکن ہمارے دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ہماری قیادت اور عوام کی چار نسلوں نے فہم وفراست کے ساتھ اس دوستی کو برقرار رکھا ہے''۔

پاکستان اور چین کی اقتصادی راہداری سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''اس سے پاکستان کے تمام علاقوں اور صوبوں کو فائدہ پہنچے گا اور اس سے ہمارا ملک سرمایہ کاری اور تجارت کا علاقائی مرکز بن جائے گا اور چین کو بھی مغربی ایشیا ،مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مختصر اور سستا روٹ میسر آئے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''صدر شی جین پنگ کے اس دورے کو دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ہم نے چینی صدر کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تاریخی فیصلے کیے ہیں۔اس سے ہمارے مشترکہ اقتصادی مستقبل پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے''۔

قبل ازیں چینی صدر شی جین پنگ نے سوموار کو پاکستان کے دو روزہ دورے پر پہنچنے کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ ،اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔انھوں نے وزیراعظم پاکستان کے دوررس نتائج کے حامل اصلاحات کے ایجنڈے کو سراہا ہے۔دونوں لیڈروں کی قیادت میں پاکستانی اور چینی وفود نے بھی دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے بات چیت کی ہے۔

میاں نواز شریف نے چینی صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب میں پاکستان آمد پر ان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے اور اس سے پاکستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

چینی صدر نے جواب میں کہا کہ میاں نواز شریف بہت تجربے کار ہیں اور ان کی دہشت گردی کے خلاف کوششیں قابل تعریف ہیں۔دونوں لیڈروں نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ باہمی دلچسپی کے امور اور خاص طور پر افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ملاقات کے دوران میاں نوازشریف نے چین کی تین سرکردہ کمپنیوں کو پاکستان میں ان کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن سہولتیں مہیا کرنے کا یقین دلایا ہے۔یہ کمپنیاں دیگر منصوبوں کے علاوہ پاکستان چین ،اقتصادی راہ داری (پی سی ای سی) کے منصوبے پر بھی کام کریں گی۔

میاں نواز شریف کا ان کمپنیوں کے انتظامی سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ان کی حکومت کا عوام سے وعدہ ہے کہ وہ اپنے دور میں توانائی کے بحران پر قابو پالے گی۔اس لیے توانائی کے شعبے سے متعلق منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زوردیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ چین پاکستان میں مجموعی طور پر چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس سے مختلف شعبوں میں متعدد منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

قبل ازیں چینی صدر شی جین پنگ اور خاتون اول پنگ لی یوآن دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔نور خان ائیربیس پر صدر ممنون حسین ،وزیراعظم نواز شریف ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ،وزیردفاع خواجہ محمد آصف اور کابینہ کے دوسرے وزراء بھی موجود تھے۔

کسی چینی صدر کا نو سال کے بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔انھوں نے گذشتہ سال دورے پر آنا تھا لیکن اسلام آباد میں حکومت مخالف جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ان کے ہمراہ کاروباری شخصیات ،کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدے دار اور سینیر سرکاری عہدے دار بھی پاکستان آئے ہیں۔