ملالہ حملے میں گرفتار آٹھ ملزمان کو بری کردینے کا انکشاف
اپریل میں جاری بیان کے مطابق 10 جنگجوئوں کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی
پاکستانی پولیس اور حکومتی وکلاء کے مطابق سنہ 2012ء میں نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی لڑکی ملالہ یوسفزئی پر حملے کے الزام میں گرفتار 10 میں سے آٹھ افراد کو ماہ اپریل میں بری کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی عدالت نے ایک بند کمرے کی سماعت میں دس جنگجوئوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ماہ اپریل کے دوران حکومتی وکیل سید نعیم نے بتایا تھا کہ 10 انتہاپسند جنگجوئوں کو سکول وین پر حملے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ سزا ایک نامعلوم مقام سے جاری کی ہے کیوںکہ سماعت کے حوالے سے بہت سے سیکیورٹی خدشات تھے۔
جمعہ کے روز نعیم کا کہنا تھا کہ دو جنگجوئوں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی تھی جبکہ باقی افراد کو شواہد کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کر دیا گیا تھا۔
حکومتی وکیل کا دعویٰ ہے کہ رپورٹر نے پہلے ان سے غلط بیان منسوب کیا تھا۔ انہوں نے اس مقدمے کے حوالے سے مزید بحث کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے باقی آٹھ افراد کو بری کرنے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے۔
اس سے پہلے اس بات کا تذکرہ اس وقت ہوا جب ایک مقامی پولیس افسر نے بین الاقوامی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ "میں صرف اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ اپریل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دس انتہاپسند جنگجوئوں میں آٹھ کو ملالہ یوسفزئی پر حملے کے مقدمے میں بری قرار دے دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ حکومت یا وکلاء نے میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی خبروں کی تصحیح کیوں نہ کی تھی۔
اس موقع پر ملالہ یوسفزئی کے لندن میں صحافتی نمائندوں نے نئی پیش رفت پر اپنا موقف دینے سے گریز کیا۔
ملالہ یوسفزئی کو سنہ 2012ء میں سکول سے واپسی کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا علاج پہلے پاکستان میں کیا گیا مگر بعد میں انہیں ایک برطانوی ہسپتال میں منتقل کردیا گیا۔ آجکل بھی وہ برطانیہ ہی میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔
ملالہ یوسفزئی مقامی طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے لئے آواز اٹھانے کے حوالے سے پہچانی جاتی تھیں اور ان کی اس تحریک کو عالمی طور پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران امن کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کا حکم جاری کرنے والے طالبان رہنما ملا فضل اللہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ افغانستان میں روپوش ہیں۔
-
ملالہ پرحملے میں ملوّث 10 مجرموں کو عمرقید کی سزائیں
پاکستان کے شمال مغربی علاقے سوات میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سنہ 2012ء ...
پاكستان -
فضائوں میں پاکستانی ملالہ کے نام کی بازگشت
مریخ اور مشتری کے درمیان سیارے کا نام ملالہ رکھ دیا گیا
پاكستان -
ملالہ یوسفزئی دنیا کی دوسری مقبول ترین خاتون قرار
انجلینا جولی، بل گیٹس مقبول ترین شخصیات میں سر فہرست
ایڈیٹر کی پسند