گورنر پنجاب کے قاتل پولیس اہلکار کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے سابق پولیس اہلکار ممتاز قادری کی سزائے موت پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قادری کو اتوار اور پیر کی درمیانی رات پھانسی دی گئی۔

پھانسی کے وقت اڈیالہ جیل جانے والے راستے کو سیل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔

ممتاز قادری کی نمازِ جنازہ پیر کی شام راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ادا کی جائے گی اور اس موقع پر احتجاج کے پیشِ نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاوہ ملک بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے اور پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی بڑی تعداد وہاں تعینات کر دی گئی ہے۔

پھانسی کی خبر عام ہونے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں سے احتجاج کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ راولپنڈی میں مظاہرین نے شہر کو دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی بڑی شاہرہ اسلام آباد ایکسپریس وے اور فیض آباد پل کو بند کر دیا ہے اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے۔

لاہور میں احتجاج کے باعث میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی ہے جبکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کر کے جلسے اور جلوسوں کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ممتاز قادری پنجاب کی ایلیٹ فورس کا اہلکار تھا اور وہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھا، اُس نے گورنر کو جنوری 2011ء میں اسلام آباد میں ایسے وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جب سلمان تاثیر ایک ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

پنجاب کے اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر نے 2010 میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے ایک کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد، اُس خاتون سے جیل میں ملاقات کی تھی اور موجودہ قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

ممتاز قادری نے گرفتاری کے بعد اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اُس نے سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ اُنھوں نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی حمایت کی تھی۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 2011ء میں ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ممتاز قادری نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت عالیہ نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ تاہم فوجداری قانون کی دفعہ 302 کے تحت اُس کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔

لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تو عدالت عظمٰی نے ممتاز قادری کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو بحال کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ توہین مذہب کے مرتکب کسی شخص کو اگر لوگ ذاتی حیثیت میں سزائیں دینا شروع کر دی جائیں تو اس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔

عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینج کے فیصلے کے خلاف ممتاز قادری نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی بھی درخواست کی لیکن اُسے بھی خارج کر دیا گیا جب کہ صدر پاکستان نے بھی ممتاز قادری کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں