ضلع سرگودھا میں مزار پر 20 افراد کا اندوہناک قتل

متولی نے ساتھیوں کی مدد سے مریدوں کو چاقو اور ڈنڈوں کے وار سے موت کی نیند سلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وسطی ضلع سرگودھا میں ایک مزار کے متولی اور اس کے چار ساتھیوں نے مبینہ طور پر بیس افراد کو ڈنڈوں اور چاقوؤں کے پے در پے وار کر کے قتل کردیا ہے۔

اجتماعی ہلاکتوں کا یہ ہولناک واقعہ سرگودھا کے نواح میں واقع ایک صوفی بزرگ محمد علی کے مزار پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا ہے۔مقتولین میں چار عورتیں بھی شامل ہیں اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس مزار کے متولی سمیت چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سرگودھا کے علاقائی پولیس سربراہ ذوالفقار حمید نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’ مزار کے پچاس سالہ متولی عبدالوحید نے ان افراد کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔اس کو یہ شبے ہوا تھا کہ وہ افراد اس کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے۔اس لیے اس نے اس شُبے میں انھیں موت کی نیند سلا دیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ مشتبہ متولی بظاہر نفسیاتی عارضے میں مبتلا لگتا ہے اور اجتماعی قتل کی یہ واردات مزار پر کنٹرول کے لیے مخاصمت کا بھی شاخسانہ ہوسکتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

ضلع سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے بتایا ہے کہ متولی ملزم عبدالوحید لاہور کا رہائشی ہے اور ایک سرکاری ملازم ہے۔ان کے بہ قول متولی ذہنی طور پر غیر مستحکم نظر آتا ہے اور وہ پہلے بھی دربار پر آنے والے لوگوں کو مارتا پیٹتا اور تشدد کا نشانہ بناتا رہتا تھا۔

قتل کے اس واقعے کی اطلاع ایک زخمی عورت نے پولیس کو دی تھی۔ وہ زخمی حالت میں ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال میں کسی طرح پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اور اس نے بتایا کہ اس کے علاوہ تین اور زخمی جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔اس عورت کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر متولی وحید اور اس کے چار ساتھی ملزموں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے زندہ بچ جانے والے افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے اپنے مریدوں کو ٹیلی فون کے ذریعے مزار پر بلایا تھا اور پھر انھیں باری باری اپنے کمرے میں طلب کیا۔پہلے انھیں کوئی زہریلی دوا کھلائی ،پھر ان کے کپڑے اتار دیے اور باری باری سب کو چاقو گھونپ کر اور ڈنڈے مار مار کر ہلاک کردیا ہے۔

پنجاب کے وزیرا علیٰ میاں شہباز شریف نے پولیس کو 24 گھنٹے میں اس واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مقتولین کے خاندانوں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے اور ہر زخمی کو دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں خاص طور پر پیر پرستی عام ہے اور صوفی بزرگوں کے عقیدت مند ان کے مزارات پر نذرانے چڑھاتے اور نیازیں دیتے ہیں۔ ان مزاروں کے متولی حضرات ان کی جہالت اور عقیدت سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ ان کو دم ٹونے کے نام پردو دو ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔بعض جعلی پیر اور عامل حضرات علاج کے نام پر آنے والے مریضوں یا مریدوں کو تشدد کا نشانہ بنانے یا آگ کی دھونی دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں اور ان کے اس عمل کے دوران میں بعض مریض جان ہی سے گزر جاتے ہیں۔

ایسے جعلی پیروں اور عاملوں کے بارے میں خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی ایسی خبر خوب نشر کی جاتی ہیں جعلی پیروں کی جعلی کرامات کے راز سرعام فاش کیے جاتے ہیں۔ایسے بعض پیر اور عامل علاج کے لیے آنے والی عورتوں سے ناجائز جنسی مراسم استوار کرنے اور ان کی عزتیں لوٹنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں اور یوں وہ اپنے آباء واجداد حقیقی صوفی بزرگوں کے نام کو بٹا لگادیتے ہیں۔ایسے جعلی پیر حقیقی تصوف اور اس کی تعلیمات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہوتے اور وہ اپنی چرب زبانی اور پروپیگنڈے کے بل پر لوگوں سے خوب دولت اینٹھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض ستم ظریف پاکستان میں پیر پرستی ،پیری مریدی اور قبر پرستی کو سب سے منافع بخش کاروبار قرار دیتے ہیں جس کے لیے کسی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

سرگودھا میں ایک صوفی بزرگ کے مزار کا احاطہ ،جہاں 20 افراد کا اندوہناک قتل ہوا ہے۔
سرگودھا میں ایک صوفی بزرگ کے مزار کا احاطہ ،جہاں 20 افراد کا اندوہناک قتل ہوا ہے۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں