پارا چنار عید سے قبل لہو لہو، دوہرے بم دھماکوں نے 30 جانیں لے لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق جب کہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ یہ دھماکے پارا چنار کے ایک مصروف علاقے میں ہوئے ہیں۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق قبائلی کُرم ایجنسی کے مرکزی شہر پارا چنار میں یہ دھماکے ٹَل اڈہ کے علاقے میں ہوئے جہاں ایک مارکیٹ اور بس اڈہ بھی موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متاثرین میں سے اکثریت اُن افراد کی ہے جو عید الفطر کے موقع پر سفر کے لیے وہاں موجود تھے یا پھر افطار سے قبل مارکیٹ سے خریداری میں مصروف تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے دھماکے کے بعد جب زخمیوں کی مدد کے لیے مزید لوگ جمع ہوئے تو چند منٹ کے وقفے کے بعد دوسرا دھماکا بھی ہو گیا۔

دھماکوں کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ علاقے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ زخمیوں کو پارا چنار کے ڈسٹرکٹ جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تلاش کا عمل جاری ہے۔

کُرم ایجنسی کے مرکزی شہر پارا چنار کی آبادی 50 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اور اس علاقے میں گزشتہ کافی عرصے سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پاکستانی فوج اور پیرا ملٹری فورسز نے شہر میں آنے اور جانے والے تمام راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں اور آنے جانے والے لوگوں اور گاڑیوں کی تفصیلی تلاشی لی جاتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پارا چنار دھماکوں پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں جب کہ کوئی بھی مسلمان ایسے گھناؤنے اقدامات کا تصور بھی نہیں کرسکتا تاہم دہشت گردی کے ایسے واقعات کو ریاست کی طاقت سے کچل دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے جب کہ وزیر اعظم نے ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی بھی ہدایت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں