بھارتی جاسوس کلبھوشن کی دفترخارجہ میں والدہ اور بیوی سے ملاقات ختم

کلبھوشن کی فیملی سے گفتگو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر نے سنی نہیں، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان میں قید بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن جادھو سے اہل خانہ کی ملاقات ختم ہو گئی۔

کلبھوشن سے ملاقات کے لیے ان کی والدہ اور بیوی دفتر خارجہ پہنچیں۔ ان کی ملاقات 2 بجکر 18 منٹ پر شروع ہوئی۔ ملاقات شروع ہونے سے 25 منٹ قبل سیکیورٹی چیک ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کا وقت 30 منٹ تھا جس کو دوران ملاقات بڑھا کر40 منٹ کر دیا گیا۔

ملاقات کے لئے دفتر خارجہ کے اولڈ بلاکس میں مخصوص کمرے میں شیشے کے ایک طرف جاسوس کلبھوشن اور دوسری طرف اس کے اہلخانہ موجود تھے اور وہ انٹرکوم کے ذریعے بات چیت کر رہے تھے۔

ملاقات کے موقع پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا ڈیسک ڈاکٹر فریحہ بھی موجود تھیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ ملاقات کے بعد کلبھوشن کے اہل خانہ آج ہی واپس براستہ عمان بھارت روانہ ہوجائیں گے۔

ملاقات سے قبل دفتر خارجہ پہنچنے پر کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ نے گاڑی سے اتر کر میڈیا کے نمائندوں کو پرنام کیا جس کے بعد وہ دفتر خارجہ کے اندر چلی گئیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ امارات ایئرلائنز کی پرواز سے پیر کی صبح اسلام آباد پہنچیں۔ ایئر پورٹ سے انھیں انڈین ہائی کمیشن لے جایا گیا جہاں سے وہ انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر کے ہمراہ کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے لیے دفتر خارجہ پہنچیں۔

دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور پاکستانی اہلکار اس ملاقات کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ وہ صرف نگرانی کریں گے۔

خیال رہے کہ انڈین شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں جاسوسی کرنے کے جرم میں فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے اور انڈیا نے اس سزا کو عالمی عدالتِ انصاف میں چیلنج کیا ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اتوار کی رات نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی اجازت معاملات کو مدنظر رکھ کر دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم نہیں چاہتے کہ اس وجہ سے ہمارے کیس میں کوئی کمزوری یا جھول آئے۔ ہمیں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسا کیا جائے۔' جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا کلبھوشن کے گھر والوں کی جانب سے رحم کی اپیل پر غور کیا جا سکتا ہے یا پھانسی کی سزا عمر قید میں بدل سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے پاکستان میں کی جانے والی کارروائیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ 'یہ مکمل طورپر ایک کوشش ہے جو انسانی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر انڈیا ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔'

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ جاسوس کلبھوشن جادھو اور اس کے اہلخانہ کے درمیان ہونے والی بات چیت بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر نے صرف دیکھی لیکن سنی نہیں۔

دفتر خارجہ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن اور اہلخانہ کی ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اگر بھارتی ہائی کمشنر کو بات چیت کا موقع دیتے تو یہ قونصلر رسائی ہو جاتی، کیونکہ یہ قونصلر رسائی نہیں تھی اس لیے بطور مبصر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر موجود رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے کمرے میں نصب شیشہ ساؤنڈ پروف تھا اس لئے اس موقع پر ہونے والی بات چیت بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ نے نہیں سنی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ جاسوس کلبھوشن نے مہران بیس پر حملے میں کالعدم تحریک طالبان کی مدد کا اعتراف کیا اور اس نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے متعدد اہلکاروں پر کوئٹہ اور تربت میں حملوں کا اعتراف بھی کیا۔

ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو پاکستان ميں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اسے مقدمے ميں صفائی کا پورا موقع دیا گيا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں