ڈاکٹر شاہد مسعود ملزم عمران کے بنک اکاؤنٹس کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام

چیف جسٹس کا اظہار برہمی ، ٹی وی اینکر کے خلاف ثبوت پیش نہ کرنے پر سخت قانونی کارروائی کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود عدالتِ عظمیٰ میں زینب قتل کیس کے گرفتار ملزم عمران علی کے بنک کھاتوں کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ عدالتِ عظمیٰ نے ان کے دعووں کی تحقیقات کے لیے ایک نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی ) تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس ، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اتوار کے روز لاہور رجسٹری میں ننھی زینب کے قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔جناب چیف جسٹس نے عدالت میں موجود ڈاکٹر شاہد مسعود کو حکم دیا ہے کہ وہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر احمد میمن کی سربراہی میں نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں اور اپنے دعووں کے حق میں ثبوت پیش کریں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’آپ نے الزام عاید کیا تھا کہ ملزم عمران علی کے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس ہیں اور وہ انھیں اندرون اور بیرون ملک چلا رہا ہے۔ آپ ہمیں ان 37 اکاؤنٹس کے ثبوت دیں۔اگر آپ ان کا کوئی ایک ثبوت بھی نہیں دے رہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے الزامات درست نہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم شاہد مسعود کے کیس کو مثال بنا دیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے تاکہ کل کو کوئی اور شاہد مسعود ٹی وی پر آ کر اس طرح کی بات نہ کرے‘‘۔

چیف جسٹس نے کمرا عدالت میں موجود اینکر پرسنز اور میڈیا مالکان کو فرداً فرداً روسٹرم پر بلایا اور ان سے رائے طلب کی کہ اس کیس کا کیا جاسکتا ہے اور عدالت کو کیا کارروائی کرنی چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ تھا اور اس کو اس طرح خبر بنا کر چلایا گیا کہ ہر کسی کی دل آزاری ہوئی اور پورے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔

انھوں نے ریمارکس دیے کہ شاہد مسعود کے خلاف تین قسم کے قوانین انسداد ِدہشت گردی ایکٹ ، فوجداری قانون اور توہین عدالت ایکٹ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے، اگر وہ آج ہی معافی مانگ لیں تو پھر اس معاملے کو دیکھا جا سکتا ہے۔اگر وقت گزر جائے تو پھر کوئی فائدہ نہیں، پھر قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔

اس پر شاہد مسعود نے کوئی ثبوت پیش کرنے کے بجائے کیس سے جڑی شہادتوں کے بارے میں گفتگو شروع کر دی جس پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ ایک ذمے دار شخص ہیں اور خود کو صحافی کہتے ہیں تو آپ شہادتوں کو کیوں جھٹلا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو میں جانے نہیں دوں گا۔ میں آپ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالوں گا۔

سینیر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں کا ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح کی خبروں سے ہیجانی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے حوالے سے نرمی کا مظاہرہ کرے اور انھیں معافی دے دی جائے ۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ معافی کا دروازہ تو ہر وقت کھلا رہتا ہے لیکن اس بارے میں ایک مثال بنانی چاہیے تاکہ آیندہ کوئی اس قسم کی جھوٹی خبریں نہ پھیلائے اور معاشرے کو بے راہ روی کا شکار نہ کرے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بدھ کی شب اپنے پروگرام میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ملزم ایک پورنو گرافی گینگ کا فعال رکن ہے اور اس کے مختلف بنکوں میں سینتیس اکاؤنٹس ہیں ۔ ان میں بعض غیرملکی اکاؤنٹس ہیں ۔ان کے بہ قول ملزم کے ایک بنک کھاتے میں پندرہ لاکھ یور و کی رقم منتقل کی گئی تھی لیکن بنک دولت پاکستان نے کہا ہے کہ ملزم کے اس طرح کے کوئی بنک کھاتے نہیں ہیں بلکہ اس کا سرے سے کوئی اکاؤنٹ ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس ، جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ان دعووں کے بعد عدالت میں ثبوت پیش کرنے کے لیے جمعرات کو طلب کیا تھا اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس تمام دھندے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک وزیر اور ایک اہم شخصیت بھی ملوث ہے ۔انھوں نے اس کا نام نہیں بتایا بلکہ جج صاحبان کو ایک کاغذ پر لکھ کر پیش کردیا تھا۔ تاہم وہ ابھی تک عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں