میاں نواز شریف مسلم لیگ ن کےتاحیات قائد ،شہباز شریف قائم مقام صدر منتخب
پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلسِ عملہ نے معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کو جماعت کا تاحیات قائد اور ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو قائم مقام صدر منتخب کر لیا ہے۔
پی ایم ایل (ن )کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس منگل کے روز ماڈل ٹاؤن لاہور میں شریف خاندان کی قیام گاہ پر ہوا۔اجلاس میں جماعت کے چئیرمین راجا ظفر الحق نے میاں نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کی تجویز پیش کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس کی تائید کی اوراس کو مجلسِ عاملہ کے ارکان نے منظور کر لیا۔
اس موقع پر وزیراعظم عباسی نے کہا کہ ’’ یہ عوام کے فیصلے ہیں ۔عدالتوں کو ہماری جماعت کا اس طرح کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے‘‘۔اس کے بعد میاں نوازشریف نے تالیوں کی گونج میں میاں شہباز شریف کا نام پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر کے طور پر تجویز کیا اور انھیں بلا مقابلہ اس عہدے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔
پی ایم ایل این کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عدالتِ عظمیٰ کے 22 فروری کو عوامی نمائندگی کے ایکٹ 2017ء کے خلاف دائر کیس کے فیصلے کے بعد طلب کیا گیا تھا جس کے تحت عدالت نے میاں نواز شریف کو مسلم لیگ کی صدارت کا بھی نااہل قرار دیا تھا اور یہ قرار دیا تھا کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔
پارٹی چئیرمین راجا ظفر الحق کی سربراہی میں اس اجلاس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، گورنر سندھ محمد زبیر ، وزیر ریلوے سعد رفیق سمیت مجلس عاملہ کے ارکان شریک تھے۔ جماعت کی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اس اہم اجلاس میں شریک نہیں تھے۔
اجلاس کے آغاز میں میاں نواز شریف نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں عدلیہ کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان پر ایک مرتبہ پھر برس پڑے اور انھیں مخاطب کرکے کہا کہ ان کا پی سی او کے تحت حلف اٹھانا اور آئین کو بالائے طاق رکھ دینا ایک بڑا جرم تھا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ کے آئین اور قواعد وضوابط کے مطابق اگر جماعت کے صدر کو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے تو جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ ایک ہفتے کے اندر قائم مقام صدر کا انتخاب کرے گی اور پھر 45 روز کے اندر جماعت کی جنرل کونسل مستقل صدر کا انتخاب کرے گی۔
عدالت ِعظمیٰ نے میاں نوازشریف کو جولائی 2017ء میں پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں اپنے اثاثے چھپانے کے الزام میں نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔پھر حکمراں جماعت نے پارلیمان سے عوامی نمائندگی کے ایکٹ میں ترمیم منظور کرالی تھی جس کے بعد انھیں مسلم لیگ کا صدر منتخب کر لیا گیا تھا مگر اب عدالت عظمیٰ نے انھیں اس عہدے کا بھی نا اہل قرار دے دیا ہے۔
میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد میاں شہباز شریف کا نام وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے آیا تھا لیکن میاں نواز شریف نے انھیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہی پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور شاہد خاقان عباسی کو مسلم لیگ ن نے وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کردیا تھا ۔ وہ قومی اسمبلی سے بقیہ مدت کے لیے بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے۔اب اگر 2018ء میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ نواز حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر میاں شہباز شریف اس کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔