سیال کوٹ میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے چہرے پر ان کے آبائی شہر سیال کوٹ میں ایک سیاسی اجتماع کے دوران میں ایک مشتبہ شخص نے سیاہی پھینک دی ہے ۔

ہفتے کے روز یہ واقعہ سیال کوٹ میں خواجہ آصف کے حلقہ انتخاب ہی میں پیش آیا ہے۔اس وقت وہ ملک کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنان کے ایک کنونشن میں تقریر کررہے تھے۔اس دوران میں ان کے پیچھے سے ایک نامعلوم شخص نے اچانک ان پر سیاہ روشنائی کی ایک بوتل انڈیل دی جس سے ان کی دائیں آنکھ سمیت چہرے کا تما م دایاں حصہ سیاہ ہوگیا۔ان کی سفید قمیص اور واسکٹ پر بھی سیاہی کے دھبے پڑ گئے۔

واقعے کے فوری بعد خواجہ آصف کے دائیں بائیں کھڑے مسلم لیگ کے کارکنان نے سیاہی پھینکنے والے اس شخص کو قابو کر لیا اور پھر اس کو پولیس کے حوالے کر دیا۔تاہم خواجہ آصف نے موقع پر ہی اپنے ساتھ بے ہودہ حرکت کرنے والے اس شخص کو معاف کردیا اور اس کی رہائی کی ہدایت کی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اس کو کسی نے رقم دے کر مجھ پر سیاہی پھینکنے کے لیے بھیجا ہوگا۔اس کو رہا کردیں کیونکہ میری اس سے کوئی دشمنی نہیں ‘‘۔انھوں نے کہا کہ اس واقعے سے میری سیاست پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ہزاروں لوگ میرے لیے دعاگو بھی ہیں۔

پی ایم ایل این کے کارکنان نے اس شخص کے لیے معافی کو مسترد کردیا اور انھوں نے اس کے خلاف نعرے بازی کرکے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر ان کے آبائی شہر نارووال میں مسلم لیگ ن کے کارکنان کے ایک کنونشن کے دوران میں ایک شخص نے جوتا اچھال دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ان ہر دو واقعات کی سنجیدہ فکر کارکنان نے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ عوامی اجتماعات میں سیاست دانوں کی اس طرح بے توقیری کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور سیاست میں اس غلط طرزعمل کی کسی بھی حلقے کی جانب سے حمایت نہیں کی جانی چاہیے۔

پاکستان تحریک ِانصاف کے رہ نما عثمان ڈار نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنے سیاسی حریف خواجہ آصف پر جلسے میں سیاہی پھینکنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے ،ہمیں اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور مختلف نقطہ نظر کے احترام کے لیے رواداری کو فروغ دینا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں