ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی ، بنک دولت پاکستان دیکھتا رہ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی کرنسی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید گر گئی ہے اور منگل کے روز ڈالر کا انٹربنک لین دین 115.50 روپے میں ہوا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر اتنا زیادہ مہنگا ہوا ہے۔

کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے عالمی مالیاتی اداروں سے معاشی اصلاحت کے ضمن میں کیے گئے وعدوں کے پیش نظر روپے کی قدر میں یہ نمایاں کمی ہوئی اور ڈالر کی قدر بڑھتی چلی جارہی ہے۔اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں5.40روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

بنک دولت پاکستان نے روپے کی قدر میں کمی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اچانک نمایاں اضافہ ہوگیاہے ،اس لیے اس کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن کرنسی کا کاروبار کرنے والے ڈیلر قومی بنک کا یہ مؤقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔

ایکس چینج کمپنیوں کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے بتایا ہے کہ آج ڈالر 116 روپے میں بیچا اور 115 روپے میں خرید کیا گیا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی قرضے ، حکومت کے عالمی مالیاتی اداروں سے کیے گئے غیر علانیہ وعدے اور کرپشن روپے کی قدر میں کمی کے بنیادی عوامل ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی وبیشی کا پیشگی علم رکھنے والے افراد نے ڈالر کی قدر میں اس طرح اضافے سے مختصر وقت میں بھاری رقوم بنا لی ہیں۔انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہو گا ، ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوگی اور رقوم کی منتقلی کے لیے غیر ملکی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ واپس لے اور حکام اس ضمن میں کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کو اعتماد میں لیں۔انھوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کرنسی ڈیلروں کی دکانوں پر چھاپوں پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے میں اصل ریگولیٹر تو اسٹیٹ بنک ہے اور اسی کو یہ کارروائی کرنی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں