.

میاں نواز شریف اور مریم نواز پاکستان پہنچنے پر گرفتار کر لئے گئے

باپ بیٹی کو خصوصی طیارہ کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد روانہ کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو ابوظہبی سے لاہور لانے والی اتحاد ائرویز کی پرواز لاہور ائر پورٹ پر اتر گئی، جہاں انہیں نیب حکام نے اپنی حراست میں لے کر ایک خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد روانہ کر دیا گیا ہے۔ ابوظہبی سے آنے والا طیارہ 8.48 بجے شام لاہور کے علامہ اقبال کے بین الاقوامی ائر پورٹ پر اترا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق ایمگریشن کارروائی کے بعد نیب کی ٹیم نے میاں نواز شریف اور مریم نواز سے پاسپورٹ لے لیے گئے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیرِ اعظم اور ان کی صاحب زادی مریم نواز جمعہ کی صبح لندن سے ابوظہبی پہنچے تھے جہاں سے وہ متحدہ عرب امارات کی سرکاری ائرلائنز 'اتحاد ایئر ویز' کے ذریعے جمعہ کی شام لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچے۔

نواز شریف کی آمد کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ائر پورٹ جانے سے روکنے کے لیے پنجاب کی نگران حکومت نے لاہور شہر کے 50 مرکزی مقامات اور شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا ہے۔شہر کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس بھی بند رہی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ مختلف شہروں سے آنے والے ن لیگ کے کارکنان کے قافلوں کو مختلف مقامات پر روک لیا گیا ہے اور انہیں لاہور کی جانب نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔ کئی قافلوں کے شرکا کو حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق نواز شریف کے استقبال کو روکنے کے لیے نگران حکومت نے لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں کو نظر بند کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے خلاف پنجاب پولیس کا کریک ڈاؤن جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بھی جاری رہا جس کے دوران پولیس نے لاہور اور اس کے نواحی اضلاع کے کئی شہروں اور قصبوں سے ن لیگ کے مزید درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت نے نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ، مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جب کہ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔