پاکستانی وزیر خارجہ کا افغان صدر سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتے کے روز افغان صدر اشرف غنی سے دارالحکومت کابل میں ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔انھوں نے صدر اشرف غنی کے علاوہ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں افغان حکام سے وفود کی سطح پر بھی بات چیت کی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور تعاون بڑھانے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
افغان وزیر خارجہ ربانی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں امن کا ماحول علاقائی امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ان کا ملک پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔
قبل ازیں پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورے کا مقصد افغانستان کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے اور ان کے اس پہلے غیرملکی دورے سے ظاہر ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے 3 ستمبر کو شاہ محمود قریشی سے فون پر گفتگو کی تھی اور انھیں وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالنے پر مبارک باد دی تھی۔انھوں نے پاکستانی وزیرخارجہ کو کابل کے دورے کی دعوت بھی دی تھی۔
شاہ محمود قریشی کے افغانستان کے اس دورے سے ایک روز قبل جمعہ کو اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، وزیر خارجہ قریشی اور دوسرے حکام نے شرکت کی تھی۔اس اجلاس میں پاکستا ن کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے اجلاس کے شرکاء کو جون میں اپنے دورۂ افغانستان اور صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔