.

مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ اکوڑہ خٹک مدرسہ کے سرپرستِ اعلی مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ مولانا سمیع الحق بیڈ روم میں آرام کر رہے تھے۔ جمعہ کی سات بجے شام یہ واقعہ پیش آیا ڈرائیور اور گھریلو ملازم بھی باہر تھا مولانا کا کافی خون بہہ چکا تھا سینے پر وار کیے گئے۔ ہسپتال لآتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے تھے۔

صدر وزیراعظم اعلی قیادت نے واقعہ پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق کے قتل کی فوری تحقیقات کا حکم بھی جاری کردیا اور رپورٹ طلب کرلی ہے جب کہ مولانا فضل الرحمن نے مولانا سمیع الحق کے قتل پر ردعمل دیتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔ انھوں نے مولانا سمیع الحق کے پیروکاروں کو صبر کرنے کی اپیل کی ہے۔

مولانا سمیع الحق راولپنڈی کے علاقے بحریہ ٹان میں سفاری ون ولاز میں رہائش پذیر تھے۔ مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ راولپنڈی میں اپنے مکان میں اکیلے تھے جب نامعلوم شخص نے ان کو چھریوں سے وار کر کے شہید کردیا۔ 'وہ اکیلے تھے اور ان کے محافظ اور ڈرائیور مکان سے باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ واپس آئے تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت تھے۔

مرحوم مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے بتایا کہ جمعہ کو راستے بند ہونے کی وجہ سے مولانا سمیع الحق اسلام آباد مظاہرے میں نہ جا سکے۔ عصر کے وقت راولپنڈی میں گھر تھے شام کو دیوار پھلانگ کر کوئی گھر میں داخل ہوئے اور چھریوں اور خنجروں کے وار سے ان کے والد قتل کر دیا گیا۔ واقعہ کے وقت گن مین سیکورٹی اہلکار اور سیکرٹری 10-15 منٹ کے لیے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ مولانا سمیع الحق بیڈ روم میں آرام کر رہے تھے بیمار تھے دل کا مرض بھی لاحق تھا اور 82، 83 سال عمر تھی۔ ملازمین گھر میں نہ تھے۔ سات بجے شام یہ واقعہ پیش آیا ڈرائیور اور گھریلو ملازم بھی باہر تھا مولانا کا کافی خون بہہ چکا تھا سینے پر وار کیے گئے ہسپتال آتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آور جمعے کی شام ان کے گھر میں داخل ہوا اور ان پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گئے۔ مولانا سمیع الحق 1988 سے دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ تھے جہاں سے ہزاروں طالبان نے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ دارالعلوم حقانیہ کو 1980 کی دہائی میں افغان جہاد میں اہم کردار تھا۔ طالبان کی مولانا سمیع الحق کے ساتھ روحانی وابستگی ہے۔ وہ جمیعت علما اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ تھے اور دو مرتبہ پاکستان کے ایوانِ بالا کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے سینئر نائب صدر بھی رہے ہیں۔

ردعمل اور اظہار تعزیت

صدر مملکت عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے بڑا سانحہ قرار دے دیا۔ صدر مملکت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کا قتل انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا سمیع الحق کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ملک ایک جید عالم دین اور اہم سیاسی رہنما سے محروم ہوگیا۔ وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق کے قتل کی فوری تحقیقات کا حکم بھی جاری کردیا۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت نے سیکیورٹی صورتحال کی قلعی کھول دی ہے۔ مولانا سمیع الحق کی شہادت سے ملک و قوم ایک مدبر سیاستدان اور جید عالم دین سے محروم ہو گئے ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے پوری زندگی غلبہ دین کیلئے جدوجہد کی۔ ان کی دینی و سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ حکومت مولانا سمیع الحق کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرے۔

گورنر سندھ عمران اسمعیل، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر اعلی پنجاب نے بھی واقعے پر مذمتی بیان جاری کیا۔ چیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی نے مولانا سمیع الحق کے قاتلانہ حملے جاں بحق ہونے پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ایک بہت بڑے رہنما اور محب وطن مزہبی سربراہ سے محروم ہوگیا ہے۔ ملک اور دین کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ صادق سنجرانی نے مولانا سمیع الحق کے خاندان اور قریبی رفقا سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے غم میں شریک ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے قتل پر گہرے دکھ، افسوس اور اہلخانہ کے ساتھ دلی ہمدری کا اظہار کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق ایک بڑے دینی اور سیاسی رہنما تھے، ان کی دینی، سماجی، مذہبی اور سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مولانا سمیع الحق کا شمار عظیم عالم دین میں ہوتا تھا ملک ایک بڑے مذہبی، دینی اور سیاسی رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے بیان میں کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت ایک الم ناک واقعہ ہے پاکستان ایک جید عالم دین سے محروم ہو گیا۔ مولانا سمیع الحق کی دینی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ دکھی خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کی بخشش فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔