بھارت سے تعلقات پر پاکستان کے تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں: عمران خان

اگلے سال بابا گرونانک کا 550 واں جنم دن پاکستان میں شاندار طریقے سے منایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے ضلع نارووال میں چار کلومیٹر طویل کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔ راہداری کا سنگ بنیاد سکھ برادری کی مذہبی رسومات کے بعد رکھا گیا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزرا، شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود، پنجاب کے گورنر چوہدری سرور، وزیراعلیٰ عثمان بزدار، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نعیم الحق، عثمان ڈار اور دوسرے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

بھارتی وزیر خوراک ہرسمرت کور بادل، وزیر تعمیرات ہردیپ ایس پوری، بھارتی پنجاب کے وزیر بلدیات وسیاحت اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو اور بھارتی صحافیوں پر مشتمل وفد نے بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی۔

یہ راہداری کرتارپور میں گوردوارہ دربار صاحب کو بھارت کے ضلع گورداسپور میں واقع ڈیرہ بابا نانک سے ملائے گی۔ پاکستان بھارتی سرحد سے کرتار پور میں گوردوارہ دربار صاحب تک راہداری تعمیر کرے گا جبکہ بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں ڈیرہ بابا نانک سے سرحد تک راہداری کا دوسرا حصہ بھارت تعمیر کرے گا۔ اس راہداری سے سکھ یاتریوں کو پاکستان میں اپنے مقدس مقامات کی یاترا کی سہولت ملے گی۔ راہداری کھولنے کا یہ قدم پاکستان نے اٹھایا جس کی بعد میں بھارت نے تائید کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرتارپور دربار کو بہتر سے بہتریں کریں گے اور سہولیات دیں گے، جب بابا گرونانک کا 550 واں جنم دن آئے گا تو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی بھارت جاتا تھا کہ تو کہا جاتا تھا کہ پاکستانی کی سیاسی قیادت ایک طرف ہے لیکن فوج دوستی نہیں ہونے دے گی لیکن آج میں یہ کہتا ہوں کہ بطور وزیرِاعظم، میری جماعت اور پورے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج، ہمارے سارے ادارے ایک پیج پر کھڑے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ ایک ہے اور وہ کشمیر کا ہے. انسان چاند پر پہنچ چکا ہے تو کیا ہم اپنا ایک مسئلہ حل نہیں کر سکتے. اس کے لیے دونوں طرف ارادے والی قیادت چاہیے. میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر ارادہ ہو تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے جرمنی اور فرانس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے جنگیں لڑی ہیں لیکن اب یہ ایک ساتھ ہیں اور اب یہ ایک دوسرے سے جنگ لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان نے گزشتہ 70 سال سے جو وقت گزارہ ہے اس میں دونوں جانب سے غلطیاں ہوئیں، ماضی سیکھنے کے لیے ہوتا ہے رہنے کے لیے نہیں لیکن ہم ایک قدم آگے بڑھ کر 2 قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں، اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر بہت بامقصد اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس سے پاکستان اور بھار ت کے درمیان تعلقات اور پورے خطے کے امن واستحکام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری عالمی برادری نے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور بھارت دونوں کو منفرد موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل نتیجہ خیز مذاکرات سے حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان عوامی روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں غربت کے خاتمے اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے اپنے وسائل اور توانائیاں صرف کرنی چاہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں جنوبی ایشیا میں پائیدار امن یقینی بنانے کیلئے کرتارپور جیسے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ہندوئوں' سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کی مذہبی رسومات کو اپنا ثقافتی ورثہ سمجھتا ہے اور اسے اس پر فخر ہے۔

مذہبی امور اور بین المذہب ہم آہنگی کے وزیر نورالحق قادری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بابا گرونانک دیو نے خدا کی وحدانیت، محبت، امن اور انسانیت کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ ترین ملک ہے اور وہ تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو تحفظ دیتا ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کرتارپور گوردوارہ کو محکمہ اوقاف جدید ترین مقام بنائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں